اسلام آباد:جوڈیشل کمیشن سفارشات پر صدر مملکت کے دستخط میں مزید تاخیر سے پیدا ہونے والے ممکنہ عدالتی بحران سے نمٹنے کے لئے وفاقی حکومت نے مختلف قانونی آپشنز پر غور شروع کردیا۔
تفصیلات کے مطابق 20 اور 21 جولائی کی جوڈیشل کمیشن سفارشات پر منظوری کا نوٹیفیکیشن تاحال جاری نہیں ہوسکا، صدر مملکت کی جانب سے سمری پر دستخط نہیں ہونے کے باعث ہائیکورٹ میں نئے ججز کی تعیناتی عمل میں نہیںلائی جا سکی ہے۔
منظوری میں تاخیر سے لاہور ہائیکورٹ کے 10 نئے ایڈیشنل ججز تعینات نہیںہو سکے، جبکہ پشاور ہائیکورٹ کے 4 ایڈیشنل ججز کی مستقلی بھی نوٹیفکیشن کی منتظر ہے۔
جوڈیشل کمیشن نے 20 اور 21 جولائی کو اہم فیصلوں کی منظوری دی تھی، جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کی صدر مملکت سے توثیق قانونی ضرورت ہے۔ صدر مملکت کمیشن فیصلوں کی منظوری کا رسمی اختیار رکھتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ججز کیلئے ایک سال بعد کنفرمیشن اور حلف لینا لازم ہے، ججز کا حلف صدرمملکت کی منظوری کے نوٹیفیکیشن کے بعد ہی ممکن ہے۔
دوسری جانب صدرارتی توثیق میں تاخیر کے خلاف ایڈووکیٹ لقمان ظفر نے زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ کے ذریعے اسلام ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ صدر کو انکے سیکرٹری کے ذریعے ججز تعیناتی سمری منظوری کی ہداہت کی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے نوٹیفیکیشن میں مزید تاخیر پر وفاقی حکومت کا بھی عدالت سے رجوع کا بھی امکان ہے۔
اس ضمن میں آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ججز کی سمری روکنامحض رخنہ اندازی محسوس ہوتی ہے، کیونکہ صدر پاکستان کو پوری سمری روکنے یا مسترد کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے.
ان کا کہناہے کہ صدر کسی نام پرصرف تحریری اعتراض کا اختیار رکھتے ہیں اور اعتراض کی صورت میں صدر دوبارہ جائزہ لینے کا کہہ سکتے ہیں،تاہم صدر پوری کی پوری سمری کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں رکھتےہیں.
ان کا مزید کہنا ہے کہ ججز کی تعیناتیوں کےحوالے سے سپریم کورٹ پہلے ہی تشریح کرچکی ہے، جس کے مطابق سمری مجموعی طور پر 25 روز گزرنےپر از خود منظور تصورہو گی.

