لاہور: انوکھی دشمنی کا خوفناک انتقام کی واردات میں ملزم ماں سے شادی کرنے والے کا سر کاٹ کر ساتھ لے گئے، دھڑ ہسپتال کے سرد خانے میں سر کی تلاش کے انتظار میں تدفین کا منتظر ہے۔
پولیس زرائع کے مطابق 44 سالہ مسیحی نوجوان روبن نے اب سے 20 سال قبل 22 سال کی عمر میں خود سے بڑی اپنی ایک رشتہ دار خاتون کے ساتھ شادی کی تھی جو پانچ بچوں کی ماں تھی، اس خاتون نے پہلی شادی سے طلاق لیے بغیر روبن کے ساتھ کورٹ میرج کر لی اور چھپ کر زندگی گزارنے لگے.
مقتول کے خاندان کے مطابق اس شادی کو 20 سال کا عرصہ گزرنے کے بعد اب سے چند روز پہلے اسی خاتون کے ایک بیٹے نے روبن کو ڈھونڈ نکالا۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس نے مناواں کے علاقے نت کلاں میں پہلے تو روبن کو مارا پیٹا پھر اسے موٹرسائیکل کے پیچھے باندھ کر گھسیٹتے رہے جسکے بعد یہ روبن کا سر کاٹ کر اپنے ساتھ لے گئے .
اہل علاقہ نے تشدد کی اطلاع اہلخانہ کو دی، جس پر پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا، جبکہ بغیر سر کے لاش کو ہسپتال کے سردخانے میں رکھوا دیا گیا.
پولیس نےواقہ میں ملوث ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا، تاہم اب تک ملزموں سے لاش کا سر برآمد نہیں کرایا جا سکا ہے، ملزموں نے اس سلسلےمیںتعاون کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سر کا ہمیں نہیں پتہ ہم نے کاٹا اور دیوانگی میں پتہ نہیں کہاں پھینکا ہے.
مقتول کےروبن کے بوڑھے والدین اور بہنوں کا پولیس سے مطالبہ ہے کہ ہمیں روبن کا سر برآمد کروا دیں تاکہ ہم اسکی تدفین کریں جبکہ پولیس کے ہر حربے کے باوجود روبن کے سر کا کوئی پتہ نہیں چل رہا اور اسکی لاش کئی روز بعد بھی سرد خانے میں اپنے سر کی منتظر ہے۔

