WhatsApp Image 2026 10 11 at 10.57.04

بچیوں کا عالمی دن؛ کم عمری کی شادی کا خاتمہ اور لڑکیوں‌کے حقوق کا مطالبہ

ملتان:پاکستان سمیت دنیا بھر میں گزشتہ روز بچیوں کا عالمی دن منایا گیا۔

اقوام متحدہ کی جانب سے اس سال کا موضوع ” اس سال کا موضوع لڑکیوں، لڑکیوں کی تنظیموں، لڑکیوں کی قیادت میں کام کرنے والے نیٹ ورکس، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے شراکت داروں سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا۔ان سب نے مل کر” کم عمری کی شادی کے خاتمے اور لڑکیوں کے حقوق میں سرمایہ کاری کے لیے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا”.
WhatsApp Image 2026 09 18 at 08.12.17
ماہرین کے مطابق غربت، صنفی امتیاز اور صنفی بنیادوں پر تشدد جیسے مسائل کے خلاف مؤثر اقدامات کرنا، جو بچیوں کی تعلیم، صحت اور ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔بچیوں کو تعلیم جاری رکھنے کے مواقع فراہم کرنا، ڈیجیٹل وسائل تک رسائی میں موجود فرق کو کم کرنا اور انٹرنیٹ و تعلیمی سہولیات سے محروم بچیوں کی مدد کرنا پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔

سول سوسائٹی کے مطابق کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانا اور بچیوں کی قیادت میں کام کرنے والی تنظیموں کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس کے جسمانی اور ذہنی صحت پر سنگین اور دیرپا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس سے سماجی تنہائی، ڈپریشن اور جذباتی پریشانیوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں 15 سے 19 سال کی عمر کی نوعمر لڑکیوں میں خود کو نقصان پہنچانا موت کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔
440503 1359557 updates
ماہرین کے مطابق لڑکیوں کی تعلیم، قانونی اصلاحات اور سماجی تحفظ میں سرمایہ کاری کی بدولت گزشتہ 25 برسوں کے دوران اندازاً 6 کروڑ 80 لاکھ کم عمری کی شادیاں روکی جا چکی ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب لڑکیوں کی مدد کی جائے اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے تو مثبت تبدیلی ممکن ہے۔اس لئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئیے، کم عمری کی شادی کا خاتمہ کریں، لڑکیوں کے حقوق کا تحفظ کریں اور انہیں ایسا مستقبل بنانے کے مواقع فراہم کریں جس کا انتخاب وہ خود کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں