صفورا امجد
عام طور پر جنگ کو انسانی جانوں کے ضیاع یا تباہ شدہ عمارتوں کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے لیکن اس کے ایک اہم پہلو ماحولیات کی تباہی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جنگ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتی بلکہ زمین ، پانی ، ہوا اور جنگلات بھی اس سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ جنگ کے دوران دھماکوں ، بمباری اور فوجی سرگرمیوں کے نتیجے میں بڑی مقدار میں آلودگی پیدا ہوتی ہے۔
ماحولیاتی تباہی کا ایک پہلو خوراک اور پانی کی فراہمی پر اس کے شدید اثرات ہیں۔ جب زرعی زمینیں تباہ ہو جائیں ، آبپاشی کا نظام تباہ ہو جائے اور پانی کے ذرائع آلودہ ہو جائیں تو مقامی آبادی کے لیے بنیادی ضروریات بھی پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
جنگ کے اثرات انسانوں کے علاوہ جنگلی حیات پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ زمین اور پانی کی آلودگی جیسے مسائل ماحولیاتی نظام کے توازن متاثر کرتے ہیں اور ان نقصانات کی بحالی میں کئی سال یا دہائیاں لگ سکتی ہیں۔
اس صورت حال کی ایک نمایاں مثال غزہ کی جنگ ہے۔ ستمبر 2025 میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی جاری کرده رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنگ کی وجہ سے غزہ کی زرعی زمین ، پانی کے نظام اور قدرتی ماحول کو شدید نقصان پہنچا ہے. رپورٹ کے مطابق ملبےکی مقدار تقریباً 6 کروڑ 10لاکھ ٹن تک پہنچ چکی تھی جبکہ غزہ کی تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار عمارتوں میں سے 78 فیصد کو نقصان پہنچا یا وہ مکمل تباہ ہو چکیں تھیں۔( یہ اعداد و شمار رپورٹ کے وقت کے ہیں ، موجودہ صورت حال کے نہیں)۔
پر سال 6 نومبر کو جنگ اور مسلح تنازعات میں ماحول کے استحصال کو روکنے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ نے 5 نومبر 2001 کو اس دن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اس دن کا مقصد اس بات کی طرف توجہ مبذول کروانا ہے کہ مسلح تنازعات کے دوران قدرتی وسائل کو پہنچنے والا نقصان عالمی ترقی اور امن سے جڑا ہوا سنگین مسئلہ ہے ۔
جنگ میں ہونے والی تباہی صرف انسانی جانیں نہیں لیتی بلکہ زمین کو بھی ایسے زخم دیتی ہے جس کو بھرنے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ تباہ ہونے والے گھر دوبارہ بن جاتے ہیں لیکن برباد زرعی زمین ، آلودہ پانی اور ختم ہوتی ہریالی کی بحالی کے لیے ایک طویل وقت درکار ہوتا ہے۔ اس لیے جنگوں کو روکنے اور امن بحال کرنے کے ساتھ ماحول دوست اقدامات کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ جنگ کے اثرات صرف آج کی نسل نہیں بلکہ آنے والی نسلیں بھی بھگتتی ہیں۔


