اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے مذہبی توہین کے ایک مقدمہ میں نامزد مسیحی ملزم کی سزائے موت کا حکم برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کر دی ہے، جبکہ ملزم کے بھائی کی اپیل منظور کرتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا ہے.
سپریم کورٹ نے ملزم قیصر ایوب کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیل خارج کرتے ہوئے سیشن کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ کی جانب سے دی گئی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم عدالتِ عظمیٰ نے کیس کے دوسرے اہم ملزم اور قیصر ایوب کے بھائی امون ایوب کو ثبوت عدم موجودگی کی بنا پر بری کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ مقدمہ سال 2014ء میں درج کیا گیا تھا، جس کے مطابق قیصر ایوب اور اس کے بھائی امون ایوب پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد اپ لوڈ کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔
دسمبر 2018 میں سیشن کورٹ نے دونوں بھائیوں کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت کا حکم سنایا۔
جون 2022: لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے اپیل کی سماعت کے بعد دونوں کی سزائے موت کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اسے برقرار رکھا۔
فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل (Criminal Petition No. 1165/2022) دائر کی گئی، جہاں حتمی سماعت کے بعد اعلیٰ ترین عدالت نے قیصر ایوب کی درخواست خارج کر دی اورسزائے موت کا حکم برقرار رکھا ہے۔
