اکرام بکائنوی
کسی بھی قوم کی ترقی کا حقیقی پیمانہ اس کی بلند و بالا عمارتیں، وسیع شاہراہیں، جدید ٹیکنالوجی یا معاشی وسائل نہیں، بلکہ اس کا تعلیمی معیار، فکری بالیدگی، اخلاقی شعور اور انسانی کردار ہوتا ہے۔ ان تمام عناصر کی تشکیل میں جس طبقے کا بنیادی کردار ہے، وہ استاد ہے۔ استاد محض نصاب مکمل کرنے، امتحانی پرچے حل کروانے یا طلبہ کو اسباق یاد کرانے والا فرد نہیں، بلکہ وہ انسانی ذہن کی تشکیل، شخصیت کی تعمیر، فکری صلاحیتوں کی نشوونما اور اجتماعی شعور کی آبیاری کرنے والا معمار ہے۔ وہ خام ذہنوں کو علم کی روشنی، منتشر خیالات کو فکری سمت اور بے سمت صلاحیتوں کو مقصدِ حیات عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استاد کا عالمی دن محض ایک رسمی مناسبت نہیں، بلکہ قومی ترجیحات، تعلیمی پالیسیوں اور معاشرتی اقدار کا جائزہ لینے کا ایک اہم موقع ہے۔
ہر سال پانچ اکتوبر کو دنیا بھر میں استاد کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یونیسکو کے مطابق اس دن کا مقصد اساتذہ کی خدمات کو تسلیم کرنا، ان کے حقوق و مسائل کو اجاگر کرنا اور تعلیم کے معیار میں ان کے بنیادی کردار کو نمایاں کرنا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں اس دن کی تقریبات، تعریفی کلمات، پھولوں کے گلدستوں اور سوشل میڈیا پیغامات سے آگے بڑھ کر یہ سوال اٹھانا ضروری ہے کہ کیا استاد کو وہ معاشی تحفظ، پیشہ ورانہ خودمختاری، سماجی احترام اور ادارہ جاتی سہولتیں حاصل ہیں جن کے بغیر معیاری تعلیم کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا؟ اگر استاد کو قوم کا معمار کہا جاتا ہے تو پھر اس معمار کی اپنی زندگی معاشی عدم استحکام، پیشہ ورانہ بے یقینی اور سماجی بے اعتنائی کا شکار کیوں ہے؟ یہ تضاد محض ایک فرد کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارے تعلیمی نظام کی ساختی کمزوریوں کی نشان دہی کرتا ہے۔
تعلیم کسی بھی ریاست کے انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کا بنیادی ذریعہ ہے۔ معاشیات کی اصطلاح میں انسانی سرمایہ یا ہیومن کیپیٹل سے مراد افراد کا علم، مہارت، تجربہ، صحت اور پیداواری صلاحیت ہے۔ اس سرمائے کی تشکیل میں استاد مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ جب استاد معیاری تعلیم فراہم کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایک طالب علم تک محدود نہیں رہتے، بلکہ بہتر افرادی قوت، مؤثر اداروں، سائنسی تحقیق، معاشی پیداواری صلاحیت اور ذمہ دار شہریوں کی صورت میں پورے معاشرے تک پہنچتے ہیں۔ اس کے برعکس جب تدریسی نظام کمزور ہو، اساتذہ غیر تربیت یافتہ ہوں یا تعلیمی ادارے بنیادی سہولتوں سے محروم ہوں تو اس کے نقصانات کئی نسلوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اسی لیے تعلیم پر اخراجات کو محض سرکاری بجٹ کا بوجھ سمجھنا درست نہیں؛ یہ قومی مستقبل پر سرمایہ کاری ہے، جس کے نتائج دیرپا اور ہمہ گیر ہوتے ہیں۔
ہمارے تعلیمی نظام کا ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ استاد کی اہمیت کو نظری طور پر تسلیم تو کیا جاتا ہے، لیکن پالیسی سازی میں اس حیثیت کے مطابق ترجیحات ہمیشہ متعین نہیں کی جاتیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی، بعض علاقوں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان، غیر ضروری انتظامی ذمہ داریاں، تربیتی مواقع کی محدود دستیابی اور مختلف سطحوں پر نگرانی کے پیچیدہ طریقۂ کار تدریسی عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ دوسری طرف بہت سے نجی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو کم تنخواہوں، ملازمت کے غیر یقینی حالات اور کام کے غیر متوازن بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب ایک استاد اپنی آمدنی اور گھریلو اخراجات کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے مسلسل پریشان رہے تو اس کی پیشہ ورانہ زندگی پر دباؤ بڑھنا فطری ہے۔ اس مسئلے کا حل محض استاد کو مزید محنت کی تلقین کرنا نہیں، بلکہ ایسا ادارہ جاتی ماحول پیدا کرنا ہے جس میں محنت، اہلیت اور ذمہ داری کی مناسب قدر ہو۔
استاد کی پیشہ ورانہ کارکردگی کا تعلق صرف اس کی ذاتی قابلیت سے نہیں، بلکہ ان حالات سے بھی ہے جن میں وہ تدریس کرتا ہے۔ جدید تعلیمی تحقیق میں مؤثر تدریس کے لیے موضوع پر عبور، طلبہ کی نفسیات کی تفہیم، مناسب تدریسی حکمتِ عملی، مسلسل جائزہ اور بروقت اصلاح کو اہم عناصر سمجھا جاتا ہے۔ ایک مؤثر استاد مختلف ذہنی صلاحیتوں، سیکھنے کی رفتار اور سماجی پس منظر رکھنے والے طلبہ کی ضروریات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ہر طالب علم کو ایک ہی پیمانے سے نہیں ناپتا، بلکہ اس کی انفرادی صلاحیتوں کو سامنے رکھ کر رہنمائی کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، جدید تعلیمی وسائل، مناسب کلاس سائز اور تعلیمی اداروں میں علمی معاونت ناگزیر ہیں۔ محض نصاب میں تبدیلی یا امتحانی نظام کی اصلاح اس وقت تک مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتی جب تک کلاس روم میں تدریس کے حقیقی معیار کو بہتر نہ بنایا جائے۔
ڈیجیٹل انقلاب نے تعلیم کے روایتی تصورات کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ مصنوعی ذہانت، آن لائن تدریس، ڈیجیٹل کتب خانوں اور معلومات کے تیز رفتار تبادلے نے علم تک رسائی کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ اب استاد کا کردار صرف معلومات فراہم کرنے تک محدود نہیں رہا، بلکہ اسے طلبہ میں معلومات کی جانچ، مستند ذرائع کی شناخت، تنقیدی فکر، تخلیقی صلاحیت اور اخلاقی فیصلہ سازی کو فروغ دینا ہے۔ انٹرنیٹ پر معلومات کی کثرت بذاتِ خود علم کی ضمانت نہیں؛ اصل ضرورت یہ ہے کہ طالب علم درست اور غلط، تحقیق اور افواہ، دلیل اور جذباتی دعوے کے درمیان فرق کرنا سیکھے۔ یہ کام ایک باشعور، تربیت یافتہ اور ذمہ دار استاد ہی بہتر انداز میں انجام دے سکتا ہے۔ تاہم ڈیجیٹل تعلیم کے فوائد اسی وقت عام ہو سکتے ہیں جب دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ، بجلی، آلات اور تربیت کی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں، ورنہ ٹیکنالوجی تعلیمی مساوات پیدا کرنے کے بجائے موجودہ تفاوت کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
استاد کے مقام و مرتبے کو سمجھنے کے لیے ہماری مذہبی اور تہذیبی روایت بھی بنیادی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اسلام نے علم کو انسانی فضیلت اور شعور کی بنیاد قرار دیا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: ’’کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘ (الزمر: 9)۔ ایک اور مقام پر اہلِ ایمان اور اہلِ علم کے درجات کی بلندی کا ذکر کیا گیا ہے (المجادلہ: 11)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔‘‘ (صحیح بخاری: 5027)۔ ان تعلیمات سے علم حاصل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی فضیلت واضح ہوتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں معلمین، محدثین، فقہاء اور اہلِ علم نے صرف علمی ذخیرے کی حفاظت نہیں کی، بلکہ معاشرتی اخلاق، فکری مباحث اور تہذیبی ارتقا میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ چنانچہ دینی مدارس کے اساتذہ ہوں یا عصری تعلیمی اداروں کے معلمین، ان کی خدمات کا جائزہ علم، دیانت، اہلیت اور تربیتی اثرات کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
تاہم استاد کے احترام کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے کردار اور کارکردگی کو تنقید سے بالاتر قرار دے دیا جائے۔ ایک مہذب تعلیمی نظام میں استاد کو عزت بھی حاصل ہوتی ہے اور جواب دہی بھی۔ اگر استاد اپنے منصب سے غفلت برتے، طلبہ میں امتیاز کرے، غیر ضروری سختی اختیار کرے یا تشدد کو تربیت کا ذریعہ بنائے تو ایسے رویوں کی اصلاح ضروری ہے۔ اسی طرح شاگرد کی عزتِ نفس، ذہنی سلامتی اور سوال کرنے کے حق کا تحفظ بھی تعلیمی ادارے کی ذمہ داری ہے۔ احترام اور جواب دہی ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ ایک مضبوط پیشہ ورانہ نظام کے دو بنیادی ستون ہیں۔ جس طرح استاد کو غیر ضروری تضحیک، بے جا دباؤ اور غیر منصفانہ احتساب سے تحفظ ملنا چاہیے، اسی طرح اسے بھی اپنے اختیار کے استعمال میں انصاف، شفقت اور پیشہ ورانہ دیانت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
معاشرتی رویوں میں تبدیلی بھی استاد کے مقام پر اثر انداز ہوتی ہے۔ بعض خاندانوں میں تعلیمی ادارے کو صرف امتحانی نمبروں اور ڈگریوں کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ والدین بچوں کی کارکردگی کے لیے فکر مند رہتے ہیں، لیکن ان کی اخلاقی تربیت، مطالعے کی عادت، نظم و ضبط اور ذمہ داری کے شعور پر مطلوبہ توجہ نہیں دیتے۔ بعض اوقات معمولی شکایت پر استاد کی بات سنے بغیر اسے موردِ الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے، جبکہ کچھ حالات میں استاد بھی والدین کے جائز سوالات کو اپنی توہین سمجھ لیتا ہے۔ اس باہمی بداعتمادی کا نقصان بالآخر طالب علم کو پہنچتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین، استاد اور انتظامیہ ایک مشترکہ تعلیمی شراکت داری قائم کریں، جس میں باقاعدہ رابطہ، شفاف شکایتی نظام، طالب علم کی پیش رفت کا جائزہ اور اصلاحی اقدامات شامل ہوں۔
پاکستان کے تناظر میں استاد کی قدر و منزلت کا معاملہ مزید سنجیدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ تعلیمی معیار کے ساتھ تعلیم تک مساوی رسائی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں، مختلف معاشی طبقات اور مختلف نوعیت کے تعلیمی اداروں کے درمیان سہولتوں اور مواقع کا فرق طلبہ کی تعلیمی پیش رفت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں استاد کو محض نتائج کا ذمہ دار قرار دینا حقیقت پسندانہ طرزِ فکر نہیں۔ تعلیمی کامیابی کے لیے اساتذہ کی اہلیت کے ساتھ نصابی معیار، تدریسی زبان، گھریلو ماحول، غذائی و نفسیاتی ضروریات، ادارہ جاتی وسائل اور انتظامی معاونت بھی اہم ہیں۔ مؤثر تعلیمی پالیسی وہی ہوگی جو ان تمام عوامل کو ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھے اور مسائل کا حل صرف کلاس روم کے اندر تلاش کرنے کے بجائے پورے تعلیمی ماحول کو بہتر بنائے۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اساتذہ کی بھرتیوں میں میرٹ اور شفافیت یقینی بنائے، خالی آسامیوں کو ضرورت کے مطابق پُر کرے، مناسب معاوضہ اور ملازمت کا تحفظ فراہم کرے، تربیتی پروگراموں کو مؤثر بنائے اور تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر توجہ دے۔ اسی طرح اساتذہ کی کارکردگی کے جائزے کو محض کاغذی کارروائی، حاضری یا امتحانی نتائج تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں تدریسی مہارت، طلبہ کی علمی پیش رفت، کلاس روم کے ماحول، پیشہ ورانہ ترقی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو بھی مناسب وزن دیا جانا چاہیے۔ اساتذہ کو غیر ضروری دفتری امور سے آزاد کر کے تدریس اور تربیت کے لیے زیادہ وقت دینا بھی ضروری ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کے لیے ایسے ضابطے ہونے چاہییں جو اداروں کی انتظامی ضروریات اور اساتذہ کے بنیادی حقوق کے درمیان منصفانہ توازن قائم کریں۔
استاد کی عزت کا ایک عملی پہلو یہ بھی ہے کہ معاشرہ کامیابی کے تصور کو صرف دولت، عہدے اور شہرت تک محدود نہ رکھے۔ جو شخص بچوں کو پڑھاتا ہے، انہیں سوچنا سکھاتا ہے اور ان کے اندر سچائی، دیانت، برداشت اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرتا ہے، وہ معاشرے کی تعمیر میں بنیادی حصہ ڈالتا ہے۔ کسی استاد کی محنت کا نتیجہ ہمیشہ فوری طور پر سامنے نہیں آتا۔ بعض اوقات برسوں بعد اس کے شاگرد کی علمی کامیابی، اخلاقی کردار یا سماجی خدمت اس تربیت کی گواہی دیتی ہے جو اسے کبھی ایک سادہ سے کلاس روم میں ملی تھی۔ یہی تدریس کی وہ پائیدار تاثیر ہے جو استاد کو عام پیشوں سے ممتاز کرتی ہے۔ اس کا حقیقی سرمایہ وہ افراد ہیں جن کی صلاحیتوں کو اس نے بیدار کیا اور جنہیں اس نے اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کا راستہ دکھایا۔
استاد کا عالمی دن ہمیں محض ماضی کے محسنوں کو یاد کرنے کی دعوت نہیں دیتا، بلکہ مستقبل کے لیے عملی فیصلے کرنے کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ اگر ہم معیاری تعلیم، سائنسی ترقی، معاشی استحکام، سماجی انصاف اور قومی شعور کے خواہاں ہیں تو ہمیں استاد کو تعلیمی پالیسی کے مرکز میں رکھنا ہوگا۔ اس کی عزت تقریروں سے نہیں، منصفانہ معاوضے، بہتر تربیت، مناسب وسائل، پیشہ ورانہ تحفظ اور ذمہ دارانہ احتساب سے ثابت ہوگی۔ اسی طرح استاد کو بھی بدلتے ہوئے علمی تقاضوں کے مطابق خود کو بہتر بنانا، طلبہ کی انفرادی ضروریات کو سمجھنا اور علم کے ساتھ کردار کی تعمیر کو اپنی ذمہ داری تسلیم کرنا ہوگا۔
آخرکار استاد کا عالمی دن ایک بنیادی حقیقت کی یاد دہانی ہے: قوموں کا مستقبل صرف وسائل کی تقسیم سے نہیں، بلکہ علم کی منتقلی، صلاحیتوں کی نشوونما اور کردار کی تعمیر سے تشکیل پاتا ہے۔ اگر استاد کمزور ہوگا تو تعلیمی ادارے اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ نتائج پیدا نہیں کر سکیں گے؛ اگر استاد کو بااختیار، تربیت یافتہ اور معاشی طور پر محفوظ بنایا جائے گا تو اس کے مثبت اثرات فرد، خاندان، ادارے اور ریاست تک پہنچیں گے۔ پانچ اکتوبر کو استاد کے لیے خراجِ تحسین پیش کرنا اچھی روایت ہے، مگر اس روایت کی اصل تکمیل تب ہوگی جب استاد کے حقوق سال کے تین سو پینسٹھ دن محفوظ ہوں، اس کی محنت کو مناسب قدر ملے اور اس کے پیشے کو قومی ترقی کی بنیادی ترجیح تسلیم کیا جائے۔ کیونکہ استاد صرف مستقبل کے معمار تیار نہیں کرتا، وہ خود مستقبل کی تعمیر میں مصروف ہوتا ہے؛ اور جو قوم اپنے معمار کی قدر کرنا سیکھ لیتی ہے، وہ اپنی ترقی کی بنیاد مضبوط کر لیتی ہے۔




