social media 2

جنسی بلیک میلنگ اور سیکسٹورشن میں مدد کیلئے سوشل میڈیا سروس کا آغاز

ویب نیوز:جنسی بلیک میلنگ یا سیکسٹورشن ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہے جو بچوں اور نوجوانوں کو آن لائن درپیش ہے اور یہ ان پلیٹ فارمز اور ایپس پر ہو رہا ہے جنہیں وہ روزمرہ استعمال کرتے ہیں۔
442638 2660965 updates
اس کے اثرات تباہ کن ہو سکتے ہیں اور افسوسناک بات یہ ہے کہ بہت سے بچے جو جنسی بلیک میلنگ کا شکار ہوتے ہیں خاموشی میں تکلیف اٹھاتے ہیں کیونکہ انہیں نہیں پتہ کہ مدد کے لیے کس کے پاس جائیں یا وہ بہت شرمندہ یا ڈرے ہوئے ہوتے ہیں کہ کسی کو بتائیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے اس بارے میں آگاہی اور مدد کے لیے سوشل میڈیا سروس شروع کی ہے، یونیسیف ماہرین نے جنسی بلیک میلنگ کے خطرے اور اس سے نمٹنے کے پہلوؤں کی نشاندہی کی۔

سیکسٹورشن میں مجرم جنسی چیٹس، برہنہ تصاویر یا ویڈیوز جاری کرنے کی دھمکی دے کر مزید جنسی مواد یا پیسے کا مطالبہ کرتا ہے۔سیکسٹنگ میں برہنہ یا نیم برہنہ مواد کا اشتراک ہوتا ہے، ایک بار تصویر شیئر ہو جائے تو اسے بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اکثر مجرم اجنبی نہیں بلکہ دوست، سابقہ پارٹنر یا جاننے والے لوگ ہوتے ہیں۔
440869 1319029 updates
اب “نیوڈیفائی” ایپس اور جنریٹو اے آئی سے حقیقی تصاویر کے بغیر بھی جھوٹی برہنہ تصاویر بنا کر دھمکی دی جا سکتی ہے جو نوجوانوں کے لیے بہت خطرناک ہے۔شرم، خوف اور بے چینی کی وجہ سے بہت سے نوجوان خاموش رہتے ہیں اور کبھی خودکشی تک کر لیتے ہیں۔

اس ضمن میں ہدایات کے مطابق والدین کو بچوں سے کھل کر بات کرنی چاہیے اور یقین دلانا چاہیے کہ انہیں سزا نہیں ملے گی بلکہ مدد ملے گی۔ اگر کوئی واقعہ پیش آئے تو فوری طور پر پولیس، سکول یا چائلڈ ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔

تصاویر ہٹانے کے لیے “Take It Down” جیسی مفت سروس بھی دستیاب ہے، بنیادی آگاہی اور کھلی بات چیت ہی سب سے اہم دفاع ہے،اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے سوشل میڈیا سروس شروع کی ہے والدین ایک کلک پر مدد مانگ سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں