435116 570655 updates

پاکستان میں مریضوں کو عالمی معیار سے زائد ادویات تجویز کرنے کا انکشاف

اسلام آباد: ہیلتھ سروسز اکیڈمی (HSA) کی تشویشناک تحقیقی رپورٹ سامنے آ گئی، جس میں پاکستان میں مریضوں کو عالمی معیار سے دگنی سے زائد ادویات تجویز کیے جانے کا انکشاف کیا گیا ہے۔
medical staff 1
بین الاقوامی طبی مجلے Discover Public Health میں شائع ہونے والی ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد کی ایک جامع تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر کے ڈاکٹرز مریضوں کو عالمی ادارہ صحت (WHO) کے طے شدہ معیار کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ ادویات لکھ کر دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جیرک (غیر برانڈڈ) ادویات کے استعمال میں انتہائی کمی اور اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال بھی سامنے آیا ہے۔

یہ تحقیق 2013 سے 2024 کے دوران پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور اسلام آباد کے مختلف ہسپتالوں اور کلینکس میں ادویات کی تجویز سے متعلق کی گئی 15 مختلف ڈرافٹس کے تجزیے پر مبنی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک وقت میں مریض کے نسخے پر اوسطاً 1.6 سے 1.8 ادویات ہونی چاہئیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں یہ اوسط 4.2 ادویات فی نسخہ ہے۔پشاور کے ایک ٹیچنگ ہسپتال میں یہ شرح 10.56 ادویات فی مریض تک دیکھی گئی، جو عالمی حد سے 6 گنا زیادہ ہے۔
Hepatits C
عالمی ادارہ صحت کے 100 فیصد ہدف کے برعکس پاکستان میں صرف 25 فیصد ادویات ہی جیرک (طبی) نام سے لکھی جاتی ہیں، جبکہ باقی 75 فیصد مہنگی برانڈڈ کمپنیاں ہوتی ہیں۔ بعض ہسپتالوں میں یہ شرح تقریباً صفر فیصد ریکارڈ کی گئی۔عالمی حد (20% تا 26.8%) کے برعکس پاکستان میں اوسطاً 45 فیصد نسخوں میں اینٹی بائیوٹکس تجویز کی جا رہی ہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی تجویز کردہ حد (13.4% سے 24.1%) کی جگہ 27 فیصد سے زائد مریضوں کو انجیکشنز تجویز کیے جاتے ہیں۔ بعض طبی مراکزمیں یہ شرح 98 فیصد تک پائی گئی۔

پاکستان کی قومی ضروری ادویات کی فہرست کا مکمل احاطہ کرنے کی بجائے صرف 72 فیصد ادویات اس فہرست سے لی جاتی ہیں۔

ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر اور تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان کے مطابق،
"یہ مسئلہ کسی ایک ہسپتال یا شہر تک محدود نہیں، بلکہ بنیادی صحت کے مراکزمیں بھی یہی رجحان موجود ہے۔ مریض جلد شفایابی کی امید میں خود بھی ڈاکٹرز پر انجیکشنز اور اینٹی بائیوٹکس لکھنے کا دباؤ ڈالتے ہیں، جبکہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی مارکیٹنگ اور ڈاکٹرز میں پالیسیوں پر عملدرآمد کی کمی بھی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔”

صحت کے ممکنہ نقصانات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اینٹی بائیوٹک کی مزاحمت (Antimicrobial Resistance) کی وجہ سے ادویات کا اثر ختم ہو رہا ہے، جس سے آئندہ 25 برسوں میں پاکستان میں ڈرگ ریزسٹنٹ انفیکشنز کے باعث 2,60,000 سے زائد اموات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
مالی بوجھ: مریضوں پر مالی بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ وہ سستی جینرک ادویات کی بجائے مہنگی برانڈڈ ادویات خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
WhatsApp Image 2026 08 23 at 05.23.58
اس ضمن میں سفارشات پیش کی گئی ہیں کہ ہسپتالوں اور کلینکس میں ادویات کی تجویز کے طریقے کار کا باقاعدگی سے آڈٹ کیا جائے۔ڈریپ (DRAP) کے ڈرگ قوانین اور گائیڈ لائنز پر سخت عملدرآمد کروایا جائے اور بلا ضرورت اینٹی بائیوٹکس فروخت کرنے پر پابندی لگائی جائے۔اس طرح عوام کو آگاہ کیا جائے کہ ہر بیماری کا علاج اینٹی بائیوٹکس یا انجیکشن نہیں ہوتا اور جینرک ادویات بھی اتنی ہی مؤثر ہوتی ہیں جتنی برانڈڈ ادویات ہیں ۔

اپنا تبصرہ لکھیں