اسلام آباد: یورپی یونین کے موسمیاتی مانیٹرنگ ادارے کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس (C3S) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، اگست 2026 عالمی سطح پر ہسٹری کا گرم ترین اگست ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں غیر معمولی ہیٹ ویوز، زمین اور سمندروں کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے درجہ حرارت کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔
رپورٹ میںبتایا گیا ہے کہ اگست 2026 کا عالمی اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے (1850-1900) کے اوسط کے مقابلے میں ریکارڈ حد تک زیادہ رہا، جس نے 2023 اور 2024 میں قائم ہونے والے سابقہ ریکارڈز کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
اگست کے دوران اوسط درجہ حرارت 16.96 ڈگری سینٹی گریڈ رہا جو کہ 1991 سے 2020 کے درمیان ریکارڈ ہونے والے اوسط درجہ حرارت سے 0.85 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔2023 میں جب ایل نینو کا آغاز ہوا تو اس کے بعد 13 ماہ تک ہر مہینہ تاریخ کا گرم ترین مہینہ قرار پایا تھا اور اب ممکنہ طور اگست 2026 سے ایک بار پھر اس کا آغاز ہونے والا ہے۔
اگست میں عالمی اوسط درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.65 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ ہوا اور یہ نومبر 2025 کے بعد پہلا مہینہ تھا جب عالمی اوسط درجہ حرارت 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ رہا۔
رپورٹ کے مطابق دنیا کے سمندروں کا سطح کا درجہ حرارت (Sea Surface Temperature) بھی تاریخی بلندی پر پہنچ گیا، جس کے باعث عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شدید تر ہو گئے۔ زمین کا درجہ حرارت مسلسل بین الاقوامی سطح پر مقرر کردہ 1.5^\circ\text{C} کی حد کو عبور کر رہا ہے، جو اقوام متحدہ کے پیرس معاہدے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔خیال رہے کہ 2015 کے پیرس معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز نہیں کرنے دیا جائے گا۔
کوپرنیکس کی اس رپورٹ کے مطابق، گلوبل وارمنگ کے اس شدید رجحان کا سب سے زیادہ اثر پاکستان جیسے موسمیاتی طور پر حساس (Vulnerable) ممالک پر پڑ رہا ہے. جس میںشمالی علاقوں (گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا) میں درجہ حرارت کے اضافے سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) اور فلیش فلڈز کے خطرات میں شدید اضافہ ہوا ہے۔سمندری حرارت کے باعث مون سون کا نظام شدید اور غیر متوقع ہو گیا ہے، جس سے پاکستان کے میدانی اور ساحلی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔
کوپرنیکس کے سائنسدانوں کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں بلکہ گرین ہاؤس گیسوں کے مسلسل اخراج کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ ادارے نے تمام عالمی طاقتوں اور حکومتوں پر زور دیا ہے کہ فوسل فیولز (کوئلہ، تیل، گیس) کے استعمال میں فوری کمی کی جائے اور موسمیاتی مطابقت (Climate Adaptation) کے اقدامات تیز کیے جائیں۔

