اسلام آباد:جرمن ریڈ کراس اور ہلال احمر پاکستان کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ ‘نیشنل کلائمیٹ رپورٹنگ ٹریننگ’ کا پہلا روز اختتام پذیر ہو گیا۔
ورکشاپ کا بنیادی مقصد موسمیاتی بحران کے انسانی و معاشی اثرات کو مؤثر صحافتی زاویوں سے اجاگر کرنا اور پاکستان میں کلائمیٹ جرنلزم کے بااثر نیٹ ورک کو فروغ دینا تھا۔
تربیتی ورکشاپ میں ملک بھر، بشمول آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور قبائلی اضلاع کے 25 متاثرہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین صحافیوں نے شرکت کی۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم حصہ دار ہونے کے باوجود موسمیاتی خطرات کی زد میں آنے والے سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو محض ‘موسمی خبر’ (Weather Event) کے بجائے ایک سنگین ‘انسانی و معاشی المیہ’ (Humanitarian & Socio-economic Crisis) کے طور پر پورٹریٹ کیا جائے۔
تربیت کے دوران صحافیوں کو Climate-Sensitive Reporting، Data-driven Storytelling، اور انسانی بنیادوں پر مبنی صحافت (Human-Centric Angles) کی تکنیکی مہارتیں فراہم کی گئیں۔
پینلسٹس اور ماہرین—جن میں آصف امان (جرمن ریڈ کراس)، شیر زمان (ڈپٹی ڈائریکٹر میڈیا، ہلال احمر)، انیبہ وقار، عبدالزاق کھٹی اور دیگر ماحولیاتی ماہرین شامل تھے—نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ سیلاب، ہیٹ ویوز اور گلیشیئرز پگھلنے کے واقعات کو مقامی سطح پر صحافت کے ذریعے Climate Change Angle اور احتیاطی تدابیر سے کیسے جوڑا جائے۔
ورکشاپ میں ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ موومنٹ کی انسانی خدمات، آفات سے پہلے کی تیاری (Anticipatory Action) اور بحرانوں کے دوران متاثرہ آبادیوں کی بحالی میں میڈیا کے کردار پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔

