ہر سال 14 اگست آتی ہے۔
ہم سبز و سفید لباس پہنتے ہیں، جھنڈے لہراتے ہیں، ملی نغمے سنتے ہیں اور فخر سے کہتے ہیں:
“پاکستان زندہ باد، ہم آزاد ہیں۔”
لیکن اس یومِ آزادی پر میں ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں۔
کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟
کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کے لیے 79 سال پہلے لاکھوں لوگوں نے اپنے گھر، اپنی زمینیں، اپنے خاندان اور اپنی جانیں قربان کر دیں؟
کیا یہ وہی آزادی ہے جس کے لیے لوگوں نے ہجرت کی، اپنے پیاروں کو کھویا اور ایک نئے وطن کا خواب دیکھا؟
کیونکہ آج بھی اسی پاکستان میں ایک عورت اپنی عمر کی وجہ سے محفوظ نہیں۔
وہ 18 ماہ کی معصوم بچی ہو سکتی ہے۔
وہ 16 سال کی نوجوان لڑکی ہو سکتی ہے۔
وہ 25 سال کی عورت ہو سکتی ہے۔
وہ 50 سال کی ماں بھی ہو سکتی ہے۔
عمر کوئی بھی ہو، جرم پھر بھی جرم ہے۔
اور کبھی اس کی عزت اور معصومیت کسی اجنبی کے ہاتھوں نہیں
اس کے اپنے باپ کے ہاتھوں تار تار ہوتی ہے۔
کبھی کسی چچا کے ہاتھوں۔
کبھی کسی ایسے شخص کے ہاتھوں جس پر اس کے خاندان نے بھروسہ کیا ہوتا ہے۔
جن ہاتھوں کو اس کی حفاظت کرنی تھی،
وہی ہاتھ اس کے خوف کی وجہ بن جاتے ہیں۔
اور کبھی تو مرنے کے بعد بھی ایک عورت کو سکون نہیں دیا جاتا۔
اس کے دفن ہونے کے بعد بھی اس کے جسم کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے۔
تو پھر بتائیے، ہم کس آزادی کا جشن منا رہے ہیں؟
ہمارے پاس قوانین ہیں۔
آئین ہے۔
ادارے ہیں۔
وعدے ہیں۔
مگر اگر قانون صرف کتابوں میں موجود ہو اور انصاف مظلوم تک نہ پہنچ سکے،
تو ایسے قانون کا فائدہ کیا؟
اگر ایک متاثرہ شخص کو انصاف کے لیے سالہا سال انتظار کرنا پڑے،
اور طاقتور شخص قانون سے بچ جائے،
تو پھر سوال صرف جرم کا نہیں—
معاشی بحران۔
سیاسی عدم استحکام۔
بے روزگاری۔
تعلیمی رکاوٹیں۔
جہالت اور ناخواندگی۔
اور ایک ایسا نظامِ انصاف جو اکثر کمزور کی آواز سننے میں دیر کر دیتا ہے۔
یہ صرف اخبار کی سرخیاں نہیں ہیں۔
یہ لوگوں کی زندگیاں ہیں۔
لیکن اس ملک میں آزادی کی ایک اور شکل بھی قید ہے۔
ایک لڑکی کی آزادی۔
ایک لڑکی پیدا ہوتی ہے،
اور اس کے خواب دیکھنے سے پہلے ہی معاشرہ اس کی زندگی کے فیصلے کرنا شروع کر دیتا ہے۔
اس کی تعلیم کو کہا جاتا ہے:
“اس کی کیا ضرورت ہے؟”
اس کے خوابوں کو کہا جاتا ہے:
“لڑکیوں کے لیے یہ سب نہیں ہوتا۔”
اس کی آواز کو کہا جاتا ہے:
“بدتمیزی مت کرو۔”
اس کے سوال کو کہا جاتا ہے:
“زیادہ مت بولو۔”
کبھی اسے گھر کی چار دیواری میں قید کر دیا جاتا ہے—
صرف اس لیے کہ وہ ایک لڑکی ہے۔
کبھی اس کی مرضی کے بغیر اس کی شادی کر دی جاتی ہے۔
کبھی اسے پوری زندگی صرف اس لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں کہ گھر کا نظام چلتا رہے۔
وہ بچے پالتی ہے۔
گھر سنبھالتی ہے۔
سب کی ضروریات پوری کرتی ہے۔
لیکن شاید ہی کوئی اس سے پوچھتا ہے:
“تم کیا چاہتی تھیں؟”
کبھی شوہر کے ہاتھوں مار کھاتی ہے۔
کبھی ذلت سہتی ہے۔
کبھی اسے اپنے ہی گھر میں نوکر سے بھی بدتر سمجھا جاتا ہے۔
اور پھر بھی اسے کہا جاتا ہے:
“گھر بچاؤ۔ برداشت کرو۔ خاموش رہو۔”
کیونکہ:
“لوگ کیا کہیں گے؟”
اور جب وہ اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرنے کی کوشش کرتی ہے
اپنی تعلیم کے لیے،
اپنے کیریئر کے لیے،
اپنی محبت کے لیے،
یا صرف اپنی مرضی سے “نہیں” کہنے کے لیے
تو کبھی اسے نافرمان کہا جاتا ہے،
کبھی بےحیا،
اور کبھی اس کی جان ہی لے لی جاتی ہے۔
“غیرت کے نام پر۔”
ایک بیٹی کو اس لیے مار دیا جاتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کی کوشش کی۔
آخر وہ کیسی غیرت ہے جسے اپنی ہی بیٹی کے خون کی ضرورت پڑتی ہے؟
کیسا معاشرہ ہے جو عورت کے قتل کو غیرت کہتا ہے،
لیکن اس کی آزادی کو بغاوت؟
ہم بیٹیوں سے کہتے ہیں:
“خاندان کی عزت کا خیال رکھو۔”
لیکن کوئی یہ کیوں نہیں کہتا:
“بیٹی کی حفاظت کرو۔”
ہم عورتوں سے کہتے ہیں:
“خاموش رہو۔”
لیکن جب خاموشی ظلم بن جائے تو پھر کون بولے گا؟
ہم بیٹیوں سے کہتے ہیں:
“فرمانبردار بنو۔”
لیکن جب فرمانبرداری ان کی پوری زندگی چھین لے تو ان کے ساتھ کون کھڑا ہوگا؟
اور پھر ہم انہی سے کہتے ہیں:
“تم آزاد ہو۔”
نہیں۔
ایک عورت آزاد نہیں ہے اگر اسے اپنے خوابوں اور اپنے خاندان میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے۔
وہ آزاد نہیں اگر اسے اپنی حفاظت اور اپنی خاموشی میں سے ایک چننا پڑے۔
وہ آزاد نہیں اگر اس کا “نہیں” کہنا اس کی جان کے لیے خطرہ بن جائے۔
وہ آزاد نہیں اگر اسے سڑک پر چلتے ہوئے ہر قدم پر خوف محسوس ہو۔
وہ آزاد نہیں اگر معاشرہ اس کے جسم، اس کے لباس، اس کی شادی، اس کی تعلیم، اس کے خواب اور اس کی زندگی پر اپنا حق سمجھے۔
یہ آزادی نہیں ہے۔
یہ ایک اور قسم کی قید ہے۔
میں پاکستان سے نفرت نہیں کرتی۔
میں اپنے ملک سے محبت کرتی ہوں۔
مجھے اپنے وطن کا پرچم عزیز ہے۔
مجھے ان لوگوں کی قربانیاں یاد ہیں جنہوں نے اس ملک کے لیے اپنی جانیں دیں۔
اور شاید اسی لیے میں سوال کرتی ہوں۔
کیونکہ پاکستان سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس کی ہر خامی پر خاموش ہو جائیں۔
کبھی کبھی اپنے ملک سے سچی محبت کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم اس سے مشکل سوال پوچھیں۔
آزادی صرف یہ نہیں تھی کہ ہم ایک غیر ملکی حکومت سے آزاد ہو جائیں۔
آزادی کا مطلب تھا:
خوف سے آزادی۔
ظلم سے آزادی۔
ناانصافی سے آزادی۔
جہالت سے آزادی۔
اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کی آزادی۔
تعلیم حاصل کرنے کی آزادی۔
اپنے خواب دیکھنے کی آزادی۔
اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کی آزادی۔
اور عزت کے ساتھ جینے کی آزادی۔
اس لیے اس 14 اگست کو میں بھی پرچم لہراؤں گی۔
لیکن صرف پرچم نہیں
اپنی آواز بھی بلند کروں گی۔
کیونکہ میں ایسا پاکستان نہیں چاہتی جہاں ہم ایک دن آزادی کا جشن منائیں اور باقی 364 دن لوگوں کی قید، خوف اور ناانصافی کو نظر انداز کریں۔
میں ایسا پاکستان چاہتی ہوں جہاں ایک عورت گھر سے نکلتے وقت خوفزدہ نہ ہو۔
جہاں ایک بچی خبر کی سرخی بننے کے بجائے محفوظ بچپن گزارے۔
جہاں انصاف امیر اور طاقتور کی جاگیر نہ ہو۔
جہاں تعلیم کسی کی قسمت نہیں بلکہ ہر بچے کا حق ہو۔
جہاں کسی لڑکی کے خواب اس کی پیدائش کے ساتھ دفن نہ کر دیے جائیں۔
جہاں شادی ایک انتخاب ہو، سزا نہیں۔
جہاں عورت کو ملکیت نہیں بلکہ انسان سمجھا جائے۔
جہاں “غیرت” کا مطلب بیٹی کو قتل کرنا نہیں بلکہ اس کی حفاظت کرنا ہو۔
جہاں قانون صرف بنایا نہ جائے
نافذ بھی کیا جائے۔
جہاں طاقتور قانون سے بالاتر نہ ہو۔
جہاں کمزور کی آواز دب نہ جائے۔
79 سال پہلے ہمیں آزادی ملی تھی۔
اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس ملک میں حقیقی آزادی پیدا کریں۔
کیونکہ آسمان پر لہراتا ہوا سبز و سفید پرچم خوبصورت ضرور ہے،
لیکن اس کی خوبصورتی اس وقت مکمل ہوگی
جب اس کے سائے تلے رہنے والا ہر انسان خوف کے بغیر سانس لے سکے۔
اس لیے اس 14 اگست کو جشن منانے سے پہلے خود سے پوچھیں:
ہم آزاد ہیں… یا صرف آزادی کا جشن منانے کے لیے آزاد ہیں؟
پاکستان زندہ باد۔
لیکن دعا اور جدوجہد یہ بھی ہو:
پاکستان کو صرف آزادی نہیں
انصاف، امن، تعلیم، تحفظ اور مساوی حقوق بھی چاہییں۔
کیونکہ حقیقی آزادی صرف ایک ملک کی آزادی نہیں ہوتی،
حقیقی آزادی اس ملک کے لوگوں کی آزادی ہوتی ہے۔





