اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت سپریم کورٹ اسلام آباد میں ہونے والے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں سندھ، اسلام آباد اور پشاور ہائی کورٹس سے متعلق اہم تقرریوں، توسیعات اور کنفرمیشن سے متعلق سفارشات منظور کر لی گئیں۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے جسٹس خالد حسین شاہانی کی بطور ایڈیشنل جج سندھ ہائیکورٹ مدتِ تعیناتی میں مزید 6 ماہ توسیع کی سفارش کی، جبکہ جسٹس سید فیاض الحسن شاہ کو مستقل جج بنانے کی سفارش نہیں کی گئی۔
کمیشن نے سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچز کی مدت میں مزید 3 ماہ توسیع کی بھی سفارش منظور کی۔ علاوہ ازیں سندھ ہائی کورٹ کے لیے 3 نئے ایڈیشنل ججز کی تقرری کی سفارش کرتے ہوئے محمد ہمایوں خان، سریش کمار اور ڈاکٹر شاہ نواز میمن کو نامزد کیا گیا جب کہ دو نشستیں مطلوبہ اکثریت نہیں ملنے کے باعث خالی رہ گئیں۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے لیے بھی 3 نئے ایڈیشنل ججز کی تقرری کی سفارش منظور کی گئی، جن میں ایاز شوکت، شاہ رخ ارجمند اور عمیر مجید ملک شامل ہیں۔
دوسری جانب جوڈیشل کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے چار ایڈیشنل ججز کو مستقل جج بنانے کی سفارش کی، جن میں جسٹس فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ خان، جسٹس ثابت اللہ خان اور جسٹس اورنگزیب شامل ہیں۔
علاوہ ازیں سپریم کورٹ کے اعلامیے میں کہا گیا اجلاس میں سندھ، اسلام آباد اور پشاور ہائیکورٹس سے متعلق تقرریوں، مدتِ تعیناتی میں توسیع اور ججز کی کنفرمیشن کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
دریں اثناء کل 21 جولائی کو دوپہر 2 بجے لاہور ہائیکورٹ سے متعلق اجلاس ہوگا، جس میں ایک ایڈیشنل جج کی توثیق اور دس نئے ایڈیشنل ججز کی تقرری پر غور کیا جائے گا۔
بعد ازاں سہ پہر 3 بجے بلوچستان ہائیکورٹ سے متعلق اجلاس میں پانچ ایڈیشنل ججز کی تقرری ایجنڈے کا حصہ ہوگی۔

