429824 3839261 updates

پاکستانی شہریت کے لئے شناختی کارڈ حتمی ثبوت نہیں ہے، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

لاہور: عدالت نےقرار دیا ہے کہ صرف کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) کا حامل ہونا کسی شخص کی پاکستانی شہریت کا حتمی اور ناقابل تردید ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ شہریت کے تمام معاملات کا فیصلہ متعلقہ قوانین، بالخصوص پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ اور نادرا کے قواعد و ضوابط کے تحت کیا جائے گا۔
428530 4619477 updates
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے نادرا کی جانب سے دائر سول نگرانی درخواست منظور کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔درخواست سول اور ڈسٹرکٹ عدالتوں کے ان فیصلوں کے خلاف دائر کی گئی تھی جن میں خالد خان سمیت دو افراد کو پاکستانی شہری قرار دیا گیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ شہریت اور قومیت سے متعلق تنازعات عام سول عدالتوں کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔ بلکہ ان کا تعین مخصوص قانونی طریقہ کار اور متعلقہ اداروں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق نادرا نے متعلقہ افراد کے شناختی کارڈ اس بنیاد پر منسوخ کیے تھے کہ وہ غیر ملکی شہری ہیں۔ بعد ازاں معاملہ ایک مشترکہ تصدیقی کمیٹی کے سپرد کیا گیا جس میں اسپیشل برانچ، انٹیلی جنس بیورو اور آئی ایس آئی کے نمائندے شامل تھے، تاہم کمیٹی بھی ان کی پاکستانی شہریت کی تصدیق نہ کر سکی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس میں کہا کہ تحقیقات کے دوران درخواست گزار کے والد اپنی خاندانی تاریخ اور بنیادی معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ جس سے ان کے پاکستانی ہونے کے دعوے پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوئے۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ افغان جنگ کے دوران اور اس کے بعد پاکستان آنے والے بعض افراد نے شناختی دستاویزات حاصل کر لی تھیں۔ حالانکہ ان کی اصل شہریت کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔
Untitled 2026 02 22T211754.385
عدالت نے قرار دیا کہ متعلقہ افراد 1979 سے قبل کا کوئی مستند سرکاری ریکارڈ پیش نہیں کر سکے جس سے ان کے والد کی پاکستانی شہریت ثابت ہوتی۔ اس بنیاد پر عدالت نے نادرا کے شواہد کو نظر انداز کرنے پر نچلی عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے نادرا کی درخواست منظور کر لی۔

اپنا تبصرہ لکھیں