اسلام آباد:وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبوں کو بڑی حد تک نظرانداز کر دیا گیا ہے، جبکہ شعبہ صحت کے منصوبوں کے لیے 22ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے.
زرائع کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیے گئے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کیلئے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جو رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کیلئے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کیلئے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کیلئے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کیلئے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ 41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے شامل ہیں، جن کیلئے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، جبکہ مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔
آئندہ مالی سال کے لیے شعبہ صحت کے ترقیاتی بجٹ کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں۔
نئے اور پرانے منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 22 ارب روپے کا بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ڈرگ کنٹرول کے لیے صرف 14 کروڑ اور ایکشن پلان برائے قومی آبادی کے لیے صرف 50 کروڑ روپے رکھے جائیں گے۔
دستاویز کے مطابق ہیلتھ سیکٹر کے 21 جاری اور 12 نئے منصوبوں کے لیے بجٹ تجویز کیا گیا ہے، نئے منصوبوں کیلئے 2 ارب 64 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔اسلام آباد کینسر ہاسپٹل کے لیے ایک ارب 29 کروڑ 76لاکھ روپے، وزیراعظم کے انسداد ہیپاٹائٹس سی پروگرام کے لیے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
وزیراعظم کے انسداد ذیابیطس پروگرام کیلئے ایک ارب روپے، انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس سسٹم کی ترقی پر ایک ارب 83 کروڑ روپے، قومی صحت کے جاری منصوبوں کے لیے 19.36 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
اسلام آباد کینسر اسپتال کے لیے 1.298 ارب روپے، اسلام آباد میں جناح اسپتال پولی کلینک منصوبے کے لیے 1.5 ارب روپے، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی متعدی امراض لیبارٹری کے لیے ایک ارب روپے، جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر اسلام آباد کے لیے 50 کروڑ روپے، پمز میں اسٹروک اور کریٹیکل کیئر سہولیات کی توسیع کے لیے 1.5 ارب روپے مختص ہونے کا امکان ہے۔
اسلام آباد کینسر اسپتال کے آلات کی خریداری کے لیے 1.5 ارب روپے، وزیراعظم قومی صحت پروگرام کے لیے 2 ارب روپے، ایچ آئی وی، ایڈز، ملیریا اور ٹی بی کنٹرول پروگرام کے لیے 50کروڑ روپے، ایکشن پلان برائے قومی آبادی کے لیے صرف 50 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

