اسلام آباد: سپریم کورٹ نے این ٹی ایس ٹیسٹ میں 40 فیصد نمبر لینا اہلیت کے لیےلازمی شرط قرار دیتے ہوئے پی ایس ٹی اساتذہ کی بھرتیوں سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس شکیل احمد نے تحریری فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے کے مطابق این ٹی ایس ٹیسٹ میں فیل امیدواروں کی بھرتی کےلیے دائر درخواستیں خارج کردی گئیں۔
فیصلے میں کہا گیا ہےکہ فیل امیدوار بھرتی پالیسی کو عدالت میں چیلنج کرنےکا قانونی حق نہیں رکھتے، بھرتی کے عمل میں شامل ہونےکے بعد امیدوار اہلیت کے معیار پر اعتراض نہیں اٹھا سکتے، ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد حق دعویٰ کے تحت قانونی چارہ جوئی برقرار نہیں رہ سکتی۔
سپریم کورٹ کا کہنا ہےکہ محکمہ تعلیم کی 2017 کی پالیسی قانونی ہے، عدالتیں پالیسی سازی میں مداخلت نہیں کرتیں۔
فیصلے میں کہا گیا ہےکہ پشاور ہائی کورٹ کا مشاہدہ غلط تھا کہ وزیرتعلیم کی ہدایات کی قانونی حیثیت نہیں، صوبائی وزیرتعلیم کو رولز آف بزنس کے تحت بھرتی کا معیار مقرر کرنےکا اختیار حاصل ہے.
اس لئے ٹرائل کورٹ نے فیل امیدواروں کو میرٹ لسٹ میں شامل کرنےکا حکم دے کر قانون کی غلط تشریح کی، ماتحت عدالتوں نے2017 کی رائج پالیسی کے بجائے 2014 کی منسوخ شدہ پالیسی پر انحصار کیا۔
سپریم کورٹ کے مطابق عدالتیں بھرتی کے معیار اور پالیسی کے معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں رکھتیں۔
خیال رہے کہ درخواست گزاروں نے این ٹی ایس ٹیسٹ میں 40 فیصد سےکم نمبر لینے والے امیدواروں کو میرٹ لسٹ میں شامل کرنےکی استدعا کی تھی۔
