لاہور:سیشن عدالت نے معروف ٹک ٹاکر ماہ نور کے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مقتولہ کے شوہر محمد رمضان کو سزائے موت اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔
ایڈیشنل سیشن جج چوہدری شاہد حمید نے کیس کی سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ جاری کیا، جس میں عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد اور گواہوں کے بیانات جرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں، لہذا ملزم کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت سزا دی جاتی ہے۔استغاثہ کے مطابق ملزم محمد رمضان نے2024 میں تھانہ غازی آباد کے علاقے میں اپنی اہلیہ ماہ نور کو گلا دبا کر قتل کیا۔
پراسیکیوشن کا موقف تھا کہ ملزم اپنی بیوی کو ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے سے روکتا تھا اور منع کرنے کے باوجود باز نہ آنے پر اسے قتل کر دیا۔ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر ساجد سعید بھٹی نے عدالت میں مجموعی طور پر 21 گواہان کے بیانات قلمبند کروائے اور موقف اختیار کیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیوائسز کی مدد سے شواہد اکٹھے کر کے جرم کو ناقابلِ تردید طور پر ثابت کیا گیا۔
پراسیکیوشن کے مطابق واردات کے بعد ملزم نے چالاکی سے جرم چھپانے کی کوشش کی اور مقتولہ کی لاش کو خود ہی ہسپتال منتقل کرتا رہا تاکہ واقعے کو طبعی موت ظاہر کیا جا سکے، تاہم تفتیش کے دوران حقائق سامنے آ گئے۔
عدالت نے تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ملزم کو جرم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزا سنائی اور حکم دیا کہ جرمانہ عدم ادائیگی کی صورت میں ملزم کو مزید قید بھگتنا ہوگی۔
مقتولہ ماہ نور سوشل میڈیا پر مانو برینڈ کے نام سے جانی جاتی تھی اور اس کیس کو سوشل میڈیا سرگرمیوں کے تناظر میں گھریلو تنازع سے جڑے ایک اہم مقدمے کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
