422018 3321656 updates

قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق 2025 کا بل منظور، ایچ آر سی پی کا خیر مقدم

اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق بل منظور کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سراہی میں ہونے والے پارلیمٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اقتلیتوں کے حقوق سے متعلق بل پیش کرتے ہوئے کہا

پارلیمنٹ نے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کمیشن کے قیام کا بل قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق 2025 منظور کرلیا۔ایوان نے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق بل کو کثرت رائے سے منظور کیا، بل کے حق میں 160 اور مخالفت میں 79 ووٹ آئے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا سال 2014 میں سپریم کورٹ نے کہا اقلیتوں کے لیے ایک کمیشن بنائیں، مولانا فضل الرحمان کا شکریہ کہ ان کے اراکین نے اس بل میں ترامیم دیں.
Untitled 2025 12 02T094856.826
مولانا فضل الرحمان کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کوشش کی جائے کہ آئین متنازع نہ ہو، 27 ویں ترمیم میں ایسا نہیں ہوا، یہ ترمیم اسی طرح متنازع ہو گی جیسے 18 ویں ترمیم سے پہلے کی ترامیم ہوئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا سال 1973 میں ذوالفقار علی بھٹو کے پاس دو تہائی اکثریت تھی، وہ آئین میں ترمیم کر سکتے تھے مگر ان کی طرف سے مذاکرات کیے گئے، 9 ماہ کی محنت کے بعد 18 ویں ترمیم تیار کی تو لگا ہماری جماعتیں اختلاف کے باوجود اکٹھی ہو سکتی ہیں، 26ویں آئینی ترمیم آئی تو پی ٹی آئی اس میں شریک نہیں تھی، ہم 26 ویں آئینی ترامیم کا پی ٹی آئی کو بتایا کرتے تھے لیکن 27 ویں آئینی ترمیم میں کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا 27 ویں آئینی ترمیم میں بعض شخصیات کو ایسی سہولیات و مراعات دی گئیں، قوم میں ان ترامیم کو قبول نہیں کیا گیا، ایسی مراعات کسی کو دینا خدمات کا صلہ نہیں بلکہ طبقاتی تقسیم کرنا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا ایک سال گزرنے کے باوجود اسلامی نظریاتی کونسل کی ایک بھی تجویز اس میں شامل نہیں کی گئی، آج جو قانون سازیاں ہوئیں اس حوالے سے ذرا سوچیں، آپ نے 18سال سے پہلے کے شرعی نکاح کو جنسی زیادتی قرار دیا ہے، ٹرانسجینڈر کے حوالے سے چیزوں کو اسلامی نظریاتی کونسل نے مسترد کیا۔انہوں نے کہا کہ بل کے آغاز میں آپ نے لکھا کہ اقوام متحدہ کا تقاضا ہے، آپ نے آئین پاکستان کا حلف اٹھایا ہے یا اقوام متحدہ کا؟ میں جائز مخالفت کرتا ہوں، جذباتی مخالفت نہیں کرتا، جو مغرب کی خواہشات ہیں، ہم اس کی پیروی کر رہے ہیں۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا یہ ایسا بل تھا جو دونوں ہاؤسز پاس کر چکے تھے، صدرمملکت کے پاس جب یہ بل گیا تو انہوں نے اعتراضات اٹھائے کہ ان چیزوں کو دیکھا جائے، حکومتیں کسی کی وراثت نہیں ، یہ آنی جانی ہیں، قیدی نمبر 804 کے لیے جوکرنا ہے کریں مگر اہم معاملات پر سیاست نہ کریں۔
Untitled 2025 06 20T010135.976
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان(ایچ آر سی پی) نے نیشنل کمیشن برائے اقلیتی بل 2025 کی منظوری کا اصولی طور پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بل ایک ایسے دیرینہ آئینی تقاضے کی تکمیل ہے جس کی جانب 2014 میں سپریم کورٹ نے واضح طور پر نشاندہی کی تھی۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اگرچہ قانون سازی کے عمل کے دوران ہونے والی بحث اور ترمیمات میں سیاسی اختلافات نمایاں رہے، تاہم ایچ آر سی پی اس بل کا تفصیلی جائزہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ایچ آر سی پی نے زور دیا ہے کہ مجوزہ کمیشن کو تمام مذہبی اقلیتوں کے حقوق یکساں طور پر تحفظ دینے ہوں گے— کسی بھی قسم کی درجہ بندی، امتیاز یا استثنیٰ کے بغیر۔ مزید یہ کہ کمیشن کے اختیارات اور دائرہ کار آئین میں دیے گئے مذہبی آزادی، عقیدے کی آزادی اور عدم امتیاز کے بنیادی اصولوں کے عین مطابق ہونے چاہئیں تاکہ ہر اقلیتی شہری کے حقوق مکمل طور پر محفوظ رہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں