ملتان:تھانہ بستی ملوک پولیس نے زیادتی کے مقدمہ میں ملوث 7 سالہ بچے کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت پیش کر دیا۔ عدالت نے پولیس کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی۔
پولیس تھانہ بستی ملوک کی جانب سے اتوار کے روز مقدمہ نمبر 478/26 میں 7 سالہ ملزم اورنگزیب کو عدالت پیش کیا کہ اس کے خلاف محمد سعید نے اپنے بھتیجے (ع) کے ساتھ زیادتی کی کوشش کا مقدمہ درج کرایا ہے، جس میں ملزم بچے کو گرفتار کیا گیا ہے، جا پوٹینسی ٹیسٹ اور ڈی این اے کرانے کے لئے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے۔
ملزم کی جانب سے وکیل نے دلائل دیئے کہ ب فارم کے مطابق ملزم کی عمر 7 سالہ ہے اور بڑوں کی لڑائی ہونے پر کئی دن پرانا وقوعہ بنا کر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ فاضل عدالت نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے بچے کو ری ہیبلیٹیشن سنٹر بھجوانے کا حکم دیتے ہوئے مقدمہ کی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
بچے کی والدہ نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا سات سالہ بیٹا تیسری جماعت کا طالب علم ہے اور ہمسایوں سے تنازعہ کے بعد اس کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرایا گیا۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے واقعے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ اس موقع پر وکلاء کا کہنا تھا کہ اگر ملزم کی عمر 18 سال سے کم ہو تو اس پر جوینائل ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے، جس کے تحت کم عمر بچوں کے ساتھ خصوصی طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے اور انہیں ہتھکڑیاں لگانا قانون اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے اصولوں سے متصادم سمجھا جاتا ہے۔ دریں اثناء بچے کی والدہ عدالت کے باہر بچے کو دلیہ کھلاتی رہی اور کہا کہ کل رات سے اس کے بچے کو کچھ کھانے کو نہیں دیا گیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق بستی ملوک پولیس کو ایک چار سالہ بچے کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعہ کی اطلاع موصول ہوئی، جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ بچے کا میڈیکل معائنہ کروایا اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا.ابتدائی تحقیقات کے دوران تقریباً 7 تا 8 سال عمر کے ایک بچے کو نامزد کیے جانے پر پولیس نے قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے اسے بلا تاخیر مجاز عدالت کے روبرو پیش کیا۔
عدالت نے ریکارڈ، بشمول بی فارم، کا جائزہ لیا اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 82 اور Juvenile Justice System Act, 2018 کے تحت قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بچے کو پروبیشن آفیسر کی نگرانی میں جووینائل ری ہیبلیٹیشن سینٹر بھجوانے کا حکم دیا۔ مقدمہ عدالت کی ہدایات اور قانون کے مطابق زیرِ کارروائی ہے۔دورانِ پیشی بچے کو ہتھکڑی لگانے کا واقعہ سامنے آیا، جو مقررہ قواعد اور جووینائل پروٹیکشن اصولوں کے منافی ہے۔
اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انچارج انویسٹی گیشن سب انسپکٹر مبشر گیلانی اور کانسٹیبل یونس فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ ان کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔ملتان پولیس واضح کرتی ہے کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ، قانون کی مکمل پاسداری اور شفاف تفتیش پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ کسی بھی قسم کی غفلت یا قواعد کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داران کے خلاف قانون اور محکمانہ ضابطوں کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔