نمائندگان: قصورکے قریب خاتون نے مبینہ طور پر خود کو آگ لگا دی، جسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیاگیا۔
پولیس کا کہناہے کہ خاتون نے سال 2022ء میں پولیس کانسٹیبل رفیق کے خلاف زیادتی کامقدمہ درج کرایا تھا۔جس پر عدالت نے ڈی این اے میچ نہ ہونے پرملزم کانسٹیبل رفیق مقدمہ سے بری کردیا۔
پولیس نے بتایا کہ متاثرہ خاتون نے اپیل میں جانے کی بجائے خود پرپٹرول چھڑک کرخودکشی کی کوشش کی۔
ڈی پی او نے ایس پی انویسٹی گیشن کوانکوائری کےاحکامات جاری کردیے۔تفتیشی افسرکی ملی بھگت پائی گئی تومحکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائےگی۔قبل ازیںمحکمہ نے ملزم رفیق کو نوکری سے برخاست کر دیا تھا۔
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے شادی سے انکار پر لڑکی کو قتل کرنے کے کیس میں ملزم کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیدیا۔
جسٹس شہرام سرور اور جسٹس سردار علی اکبر ڈوگر پر مشتبل بینچ نے سزائے موت کو کالعدم قرار دے کر ملزم کو بری کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پراسکیوشن کے مطابق شادی سے انکار کرنے پر ملزم نے لڑکی کو قتل کیا تھا، ٹرائل کورٹ نے 2022 میں ملزم کو سزائے موت اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں ہے کہ مقتولہ کا پوسٹ مارٹم 7 گھنٹے تاخیر سے ہوا، پراسکیوشن ملزم کے خلاف اپنا کیس ثابت کرنے میں مکمل ناکامی ہوئی لہٰذا ملزم کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیکر اسے بری کیا جاتا ہے۔
