اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں مبینہ طور پر جج کے بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے دو لڑکیوں کے جاں بحق ہونے کے مقدمہ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
جج کے بیٹے ابوذر اور متاثرہ خاندانوں کے درمیان صلح ہو گئی ہے، جس کے بعد دونوںلڑکیوںکے خاندانوں نے عدالت میں ملزم کو معاف کرنے کا بیان ریکارڈ کرایا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کی عدالت میں متاثرہ خاندانوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ ایک لڑکی کے بھائی نے عدالت میں بیان دیا، جبکہ اس کی والدہ کا بیان آن لائن ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری لڑکی کے والد بھی عدالت میں پیش ہوئے اور صلح سے متعلق اپنا بیان کیا۔
متاثرہ خاندانوں کے بیانات کے بعد عدالت نے ملزم ابوذر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم جاری کر دیا۔
دوسری جانب راولپنڈی میں نوجوان لڑکی کے زبردستی بال کاٹنے کے کیس میں عدالت نے دو مرکزی ملزموں کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی گئی۔
قبل ازیںملزم انیس خان عرف درانی اور جلیل خان کو گزشتہ روز چودہ دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بجھوایا گیا تھا۔
آج جوڈیشل مجسٹریٹ صوفیہ ملک نے دونوں ملزموں کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی۔ عدالت نے دونوں ملزموں کو 50،50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
خیال رہے کہ ٹک ٹاکر لڑکی کے بال کاٹنے اور تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزموں کے خلاف 25 نومبر کو تھانہ نصیر آباد میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

