اسلام آباد: سپریم کورٹ نے متنازع ٹوئٹ کیس میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ کے خلاف ٹرائل روکنے کا حکم دے دیا۔
متنازع ٹوئٹ کیس میں ایمان مزاری کی ٹرائل رکوانےکی درخواست پر جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے تک ٹرائل روکا جائے۔ عدالت نے فیصلہ دونوں فریقین کی باہمی رضامندی سے جاری کیا۔
دوران سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ بغیر شفاف ٹرائل کسی کو سزا نہ دے سکتے ہیں، نہ دینی چاہیے، جج کو بھی دباؤ سے آزاد ہوکر دونوں فریقین کو مکمل موقع دینا چاہیے، نہ جج کی بے توقیری ہونی چاہیے نہ ہی ہائیکورٹ کی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید ریمارکس دیئے کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کا کردار بھی اس معاملے میں اچھا نہیں رہا۔ دونوں ملزم وکیل ہونے کے باوجود ٹرائل کے دوران احتجاج کرتے رہے۔ ماتحت عدلیہ کے ججز کو کسی بھی صورت بے توقیر نہیں ہونے دیا جائے گا۔
حکومت کو بھی یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ جسے چاہے سزا دے۔ سماعت کے دوران ناروے کے سفیر بھی کمرہ عدالت میں موجود رہے۔
کیس کی سماعت کے دوران ناروے کے سفیر بھی کمرہ عدالت میں موجود رہے۔
واضح رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف ٹرائل کورٹ میں متنازع ٹوئٹ کیس زیر سماعت ہے۔
ایمان مزاری نے جج پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنا کیس کسی دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی استدعا اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر رکھی ہے۔
