اسلام آباد:سپریم کورٹ نے مختار عام کی جانب سے جائیداد کی فروخت کرنے بارے اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مالک کی مرضی کے بغیر مختار عام کے ذریعے زمین کی منتقلی غیرقانونی ہے۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس شاہد بلال حسن کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مختار عام رکھنے والا شخص مالک کی اجازت کے بغیر جائیداد حتیٰ کہ اپنے رشتہ داروں کے نام بھی منتقل نہیں کر سکتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ پاور آف اٹارنی رکھنے والے فرد کو جائیداد کی منتقلی کیلئے مالک سے باقاعدہ تحریری اجازت لینا ہوگی اور اس سے قبل اصل مالک کو سودے کی تمام تفصیلات سے آگاہ کرنا لازم ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ محض چیک کے ذریعے ادائیگی ہونا جائیداد کی فروخت کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
تفصیلات کے مطابق جواب دہندہ فرحت اقبال کو چشتیاں میں زمین وراثت میں ملی تھی، جس کی دیکھ بھال کیلئے انہوں نے ایک قریبی رشتہ دار کو مختار عام مقرر کیا تاہم مذکورہ شخص نے مالک کی اجازت کے بغیر زمین اپنے ہی بیٹوں کے نام منتقل کر دی جسے عدالت نے غیرقانونی قرار دے دیا۔
