ڈی جی خان:جوڈیشل مجسٹریٹ ڈی جی خان نے شیخجہانگیر سلطان نے کوٹچھٹہ گیس ٹینکر دھماکہ کیس میں ملوث 6 ملزموںکو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کا حکم دیاہے.فاضل عدالت نے پولیس کی جانب سے ملزموںکو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کی استدعا بھی مسترد کردی ہے.
فاضل عدالت میںکوٹچھٹہ کی جانب سے استدعا کی گئی تھی کہ شنواری پٹرول پمپ پر ایل پی جی گیس ٹینکر کو آگ لگنےکی اطلاع موصول ہوئی ، موقع پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ 5 ٹینکرڈرائیوروںنے ٹینکر پارک کرکےکھانا کھانے میںمصروف ہو گئے،اس دوران ایک ٹینکر میںآگ لگ گئی، جس سےٹینکرپھٹنے سے دو ٹرک،ایک ٹریکٹرجل گئے،جبکہ نزدیکی جھونپڑیوںمیں جانی و مالی نقصان ہوااور ایک شخص جاںبحق ہوگیا.پولیس نےمنیر احمد اور 8 نامعلوم ڈرائیوں، مالک پمپ طارق خان،جہانگیر خان، نصراللہ،نظام الدین،سید محمود عالم،رحمت اللہ،کو حفاظتی انتظامات کے بناء کام کرتے ہوئے نقصان کرنےپر مختلف دفعات کے تحت مقدمہ نمبر 140درج کیا گیاہے.
پولیس کی جانب سے 6 ملزموںملزمان منیب احمد،نصراللہ،نظام الدین،سید محمود عالم،رحمت اللہ اور طارق خان کو گرفتارکرکےعدالت میں پیش کیا۔ جس پر فاضل عدالت نے فیصلہ میںلکھا ہے کہ یہ ریمانڈ درخواست بطور ڈیوٹی جج میرے سامنے پیش کی گئی ہے۔مقامی پولیس نے مذکورہ ملزمان کے عدالتی ریمانڈ کی درخواست کی ہے، جبکہ ملزموں کی جانب سےعدالتی ریمانڈ کی سختی سے مخالفت کی گئی ہے۔
ریکارڈ کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ ملزموں کے خلاف کسی جرم کے ارتکاب کا کوئی الزام نہیں ہے۔اس کیس میں کسی ملزم کا کوئی مخصوص کردار نہیں پایا گیا۔ایف آئی آر کے مطابق،ملزموں کو اس واقعے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ریکارڈ میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو ملزمان کو مبینہ جرم سے جوڑ سکے۔لہٰذا،پولیس کی عدالتی ریمانڈ کی درخواست مسترد کی جاتی ہے اور ملزمان کو موجودہ مقدمے سے بری کیا جاتا ہے۔اگر ملزمان کسی اور فوجداری مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔