لاہور: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کے زیرِ اہتمام پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے جائزے کے لیے منعقدہ مشاورتی اجلاس میں مقامی حکومتوں کے ماہرین، قانون سازوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس امر پر سنجیدہ سوالات اٹھائے کہ آیا نیا قانون واقعی آئین میں دیے گئے مقامی خودحکمرانی کے وعدے کو پورا کرتا ہے یا نہیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وکیل شیخ صبغت اللہ نے کہا کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 140-A خودمختار، جمہوری طور پر منتخب مقامی حکومتوں کی ضمانت دیتا ہے جنہیں سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات حاصل ہونے چاہئیں۔ تاہم ان کے مطابق پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 اس آئینی ضمانت کو کمزور کرتا ہے کیونکہ اس کے تحت مقامی اداروں کو عوام کے بجائے صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کے سامنے جوابدہ بنایا گیا ہے۔
ایچ آر سی پی کے خزانچی حسین نقی نے اختیارات کی دوبارہ مرکزیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بالواسطہ انتخابات، بیوروکریسی کی بالادستی اور منتخب نمائندوں کے محدود کردار نے نظام کو کمزور کیا ہے، جس سے اختیارات عملاً وزیراعلیٰ اور سرکاری مشینری کے ہاتھ میں سمٹ گئے ہیں۔ انتخابی امور کے ماہر طاہر مہدی نے کہا کہ ماضی کے بلدیاتی قوانین کی طرح اس ایکٹ کا مقصد بھی جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہونے سے روکنا دکھائی دیتا ہے۔
بلدیاتی امور کے ماہر زاہد اسلام نے کلیدی عہدوں پر بالواسطہ انتخابات کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کی قراردادوں میں آئین کے آرٹیکل 7 کی وضاحت، آرٹیکل 32 کو خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں اور محنت کشوں سمیت تمام محروم طبقات کے لیے مزید جامع بنانے اور آئین میں مقامی حکومتوں سے متعلق علیحدہ باب شامل کرنے کی سفارشات سامنے آچکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستیں مزید حاشیہ بندی کو فروغ دیتی ہیں، اس لیے تمام انتخابات مشترکہ ووٹر لسٹ کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔
ایچ آر سی پی کی ڈائریکٹر فرح ضیا نے تجویز دی کہ غیر یقینی صورتحال سے بچنے کے لیے مقامی، قومی اور صوبائی انتخابات ایک ہی دن منعقد کیے جائیں، جیسا کہ گلگت بلتستان میں تجویز کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں شمولیت اور مساوات سے متعلق پہلوؤں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ عورت فاؤنڈیشن کی نمائندہ نبیلہ شاہین نے کہا کہ ایکٹ میں خواتین اور دیگر محروم طبقات کی مؤثر نمائندگی کی واضح ضمانت موجود نہیں۔ انسانی حقوق کے کارکن سیمسن سلامت نے بلدیاتی نظام میں عقیدے پر مبنی اعلانات کی شمولیت پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ریاست اور شہریوں کے درمیان سماجی معاہدے کے اصول کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم مسلم لیگ (ن) کی اراکین بشریٰ لودھی اور قدسیہ بتول نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ قانون نچلی سطح پر عوامی مسائل کے حل میں مدد دے گا۔
شرکاء نے اس امر پر بھی اعتراض کیا کہ ایکٹ کو عجلت میں، اپوزیشن کے واک آؤٹ کے دوران اسی دن منظور کیا گیا، جس سے شفافیت اور جمہوری قانون سازی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔ تحریک انصاف کے نمائندہ امتیاز محمود نے نشاندہی کی کہ اس ایکٹ کے تحت سیاسی جماعتوں کا کردار عملاً ختم کر دیا گیا ہے، جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔ ایچ آر سی پی پنجاب کے نائب چیئرمین راجہ اشرف نے گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ ملک میں انتخابات تاریخی طور پر متنازع رہے ہیں۔
اجلاس میں شریک اکثریت کا اتفاقِ رائے تھا کہ مقامی حکومتیں جمہوری نظام اور مؤثر عوامی خدمات کی بنیاد ہوتی ہیں، مگر پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے بجائے انہیں مرکز میں سمیٹتا دکھائی دیتا ہے۔
