ملتان:مقامی نجی لاء کالج کی طالبہ زویا خان نے ہائیکورٹ بار میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ اور طلبہ پر ہراسگی کے سنگین الزامات عائد کئے۔اس موقع پر جنرل سیکرٹری ہائیکورٹ بار صفدر سرسانہ بھی موجود تھے۔
اس موقع پر متاثرہ طالبہ زویا خان کا کہنا تھا کہ انہیں سوشل میڈیا پر فیک اکاؤنٹس کے ذریعے ہراساں کیا گیا، تاہم بارہا شکایات کے باوجود کالج انتظامیہ نے کوئی عملی کارروائی نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ کالج نے اپنی ہی پالیسیوں اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اور تمام قوانین کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔
زویا خان نے الزام عائد کیا کہ ہراسگی میں ملوث طلبہ بااثر ہیں، اسی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی، بلکہ الٹا اسے کالج سے نکال دیا گیا۔
متاثرہ طالبہ کا مزید کہنا تھا کہ کالج کے بااثر افراد نے ان کی بہن کو بھی ملازمت سے فارغ کروا دیا، جو سراسر ظلم اور انتقامی کارروائی ہے۔
اس موقع پر جنرل سیکرٹری ہائیکورٹ بار صفدر سرسانہ نے کہا کہ یہ معاملہ نہایت سنگین نوعیت کا ہے اور اس پر اعلیٰحکام نے نوٹس لے لیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعظم اور چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے متاثرہ طالبہ کو انصاف کی یقین دہانی کروائی ہے۔صفدر سرسانہ کا کہنا تھا کہ ہراسگی کے اس کیس کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں لے جایا جائے گا، جبکہ ضلعی پولیس افسر سے ملاقات بھی طے ہے تاکہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں میں طالبات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ہراسگی میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ کسی طالبہ کے ساتھ ایسا سلوک نہ ہو۔
۔
