ملتان:پیکاایکٹ ترمیمی بل کی قومی اسمبلی کے بعدسینٹ سے بھی منظوری کے خلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال پر ملک بھر میںاحتجاج کیاگیا.اس موقع پر اسلام آباد سمیت ملک بھر کےبیشتر شہروں میںصحافیوں کی بڑی تعداد نے احتجاجی ریلیاںنکالیں اور دھرنا دیا. اس موقع پر خطاب کرتے صحافی رہنماؤں نے حکومت سے ترمیمی بل پر نظر ثانی کرنے اورصحافیوںکی تجاویز کو مدنظر رکھنے کا مطالبہ کیاہے.
اسلام آباد میںہونے والے مظاہرے اور ریلی سے صدر پی ایف یو جے افضل بٹ اور سینئرصحافی عاصمہ شیرازی نے خطاب کیا.اس پر صحافیوںنےزنجیریںبھی اٹھائی ہوئی تھیں. دریںاثناء صحافیوںکی ریلی کےڈی چوک سے آگے جانے کی کوشش کرنے پر پولیس نے صحافیوں پر لاٹھی چارج بھی کیا اور خاردار تاریںلگاکرانہیںآگے جانے سے روک دیا.
اس طرحلاہور میںبھی احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میںصحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ،صحافی رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے پیکا ایکٹ کی مذمت کرتے ہوئے اسے واپس لینےکامطالبہ کیا.
.دریںاثناء ملتان میںبھی احتجاج کیا گیا.جس کی قیادت صدر ایم یو جے رؤف مان نے کی جبکہ مظاہرے میں جنرل سیکرٹری ایم یو جے جاوید اقبال عنبر،سینئر صحافی احتشام الحق ،محمد عامر حسینی،انیلہ اشرف ،سہیل چودھری،محبوب ملک، عدنان قریشی،ملک اعظم،خالد محمود کھاکھی،خواجہ محمد اشرف،فاروق ثانی، حمیدالحسن،زاہد عنبر ،غلام رسول گرمانی،عمران علی بلوچ،منصور عباس،ظفر السلام،اظہر ہاشمی،ہیومن رائٹس کمیشن کے رہنما فیصل تنگوانی اور لبنیٰ ندیم و دیگر نے شرکت کی۔اس موقع پر صحافیوں کی جانب سے ابدالی روڈ بلاک کرکے پیکا آرڈیننس نامنظور ،کالا قانون نامنظور کے نعرے لگائے اور ایکٹ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ایم یو جے رؤف مان نے کہا کہ متنازع پیکا ایکٹ آزادی صحافت پر حملہ ہے۔فیک نیوز کی آڑ میں صحافیوں کو ٹارگٹ نہیں جاسکتا۔متنازع کالا فوری واپس لیا جائے ورنہ بھرپور احتجاج کریں گے۔جنرل سیکرٹری ایم یو جے جاوید اقبال عنبر نے کہا کہ پیکا ایکٹ کو یکسر مسترد کرتے ہیں،کالے قانون کے ذریعے حکومت دھونس دھاندلی نہیں چلنے دیں گے۔پیکا ایکٹ واپس نہ ہوا تو پی ایف یو جے کی کال پر آئندہ لائحہ عمل کا فیصلہ ہوگا اور آئندہ سول سوسائٹی ، وکلاء اور تمام مکاتب فکر کو اس تحریک میں شامل کیا جائے گا ۔اس طرحفیصل آباد میںبھی احتجاجی ریلی نکالی گئی.جس میںصحافی رہنماؤںنے خطاب بھی کیا.
