421255 908891 updates

پاکستان ریلوے میں‌جدت کا سفر، ریونیو میں اربوں روپے اضافہ سے کئی منصوبے جاری

اسلام آباد: پاکستان ریلوے کی ڈیجیٹائزیشن، اے آئی ٹیکنالوجی کے استمعال سمیت اربوں روپے کے متعدد منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت پاکستان ریلویز کے امور پر اجلاس ہوا.

جس میں بتایا گیا کہ پاکستان ریلوےکی ڈیجیٹائزیشن سے متعلق 7 ڈیجیٹل پورٹل کام کر رہے ہیں، 54 ریلوے اسٹیشنوں کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے جبکہ کراچی، لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد اسٹیشن پر مفت وائی فائی فراہم کیا جاچکا ہے، مزید 48 ریلوے سٹیشنوں پر31 دسمبر تک مفت وائی فائی فراہم کیا جائے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 56 ٹرینوں کو RABTA پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ 54 ریلوے اسٹیشنوں کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے۔Untitled 2025 11 22T051222.503

وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کراچی سٹی ریلوے اسٹیشن سے ڈیجیٹل ویہنگ برج کا پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا گیا، یہ سہولت پپری، کراچی چھاؤنی، پورٹ قاسم، لاہور اور راولپنڈی میں بھی دی جائے گی۔

راولپنڈی ریلوے اسٹیشن میں اےآئی سےکام کرنے والے 148 سرویلنس کیمرے نصب کیے گئے ہیں، ریلوے اسٹیشنوں پر بینکوں کی اے ٹی ایم بھی نصب کی جا رہی ہیں۔
Untitled 2025 11 22T051428.947
اس کے علاوہ ریلوے سٹیشنز کے صفائی ستھرائی کے کام کی آؤٹ سورسنگ کی گئی ہے، بڑے ریلوے سٹیشنوں پر مسافروں کے لیے اعلیٰ معیار کی انتظار گاہیں بنائی گئی ہیں، ریلوےاسٹیشنوں پر کھانے پینے کی اشیاء چاروں صوبوں کی فوڈ اتھارٹیز کو رسائی دی گئی ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ 4 ٹرینوں کو آؤٹ سورس کیا جا چکا ہے، جلد ہی مزید 11 ٹرینوں کو آؤٹ سورس کیا جائے گا، آؤٹ سورسنگ کے باعث 8.5 ارب روپے کا اضافی ریونیو متوقع ہے، 40 لگیج اور بریک وینز کو بھی آؤٹ سورس کیا گیا ہے جس سے 820 ارب روپے کا اضافی ریونیو متوقع ہے،

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ لاہور، کراچی، ملتان، پشاور، کوئٹہ اور سکھر میں ریلوے ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ پر کام جاری ہے، ریلوے کے سکولوں، کالجوں اور ریسٹ ہاؤسز کی آؤٹ سورسنگ پر بھی کام جاری ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 155 ریلوے اسٹیشنوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا چکا ہے، ریلوےکی مین لائن ون کے کراچی-کوٹری سیکشن اور مین لائن تھری کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے لائحہ عمل ترتیب دیا جا رہا ہے جبکہ تھر ریل کنیکٹی ویٹی کے منصوبے سے متعلق حکومت سندھ کے ساتھ مل کر کام کیا جائےگا۔

بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسلام آباد-تہران-استبول ٹرین کا جلد آغاز ہو گا، قازقستان-ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریل منصوبے سے متعلق بھی ابتدائی کام ہو رہا ہے۔
Untitled 2025 11 19T080340.263
اس موقع پر وزیراعظم نے ریلوے نظام کی بحالی کے اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ریلوے منصوبوں پر قانونی اور معاشی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے اور ریلویز کی پراپرٹی اور زمین کے معاملات پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل اختیار کرنےکی ہدایت کی۔

اپنا تبصرہ لکھیں