گرد،گرما گدا اور گورستان کے شہر اولیا کرام کےملتان میں فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے درمیان تعلق واضح طور پر نظر آتا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی،صنعتی سرگرمیاں اور زمین کا غیر ذمہ دارانہ استعمال موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں اضافہ کر رہا ہے،جس سے فضائی آلودگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔پاکستان میں فضائی آلودگی کا مسئلہ دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں فضائی آلودگی کی سطح سب سے زیادہ ہے۔ ملتان میں فضائی آلودگی بھی باعث تشویش ہے۔
ایئر کوالٹی انڈیکس کی 2021ءکی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں میں ہوا کے معیار کا ڈیٹا ہے،جس میں ملتان بھی شامل ہےجو ائیرکوالٹی 150 کی خطرناک حد تک پہنچ گیا تھا، جو "غیر تسلی بخش” زمرے میں آتاہے. ماحولیات کی اس سطح سے دل، دماغ اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ملتان میں سموگ کے واقعات خاص طور پر سردیوں کے موسم میں زیادہ ہوتے ہیں،جب درجہ حرارت گر جاتا ہے اور ہوا میں نمی بڑھ جاتی ہے۔سال 2018ءمیں پاکستان میں سموگ کے اثرات کا اندازہ اس وقت لگایا گیا جب لاہور اور ملتان میں سموگ کی شدت نے سکولوں کی چھٹیاں بڑھا دیں اور بہت سے لوگ سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے۔سموگ کی شدت کا اندازہ اس عرصے کے دوران تقریباً 30 سے 40 فیصد تک ہوا کے معیار کے بگڑنے سے لگایا جا سکتا ہے۔پی ایم 2۔5 بہت زیادہ تناسب ہوتا ہے، جو پھیپھڑوں میں داخل ہو کر بیماریوں کی شدت میں اضافہ کرتے ہیں۔ سال2018ء میں، پاکستان میں ہوا کے 82 فیصد ذرات PM2.5 کی شکل میں تھے، جو کہ پھیپھڑوں کی بیماریوں اور دیگر صحت کے مسائل کا سبب بنتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گردو غبار کے طوفان کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پنجاب اور ملتان جیسے علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے کے باعث خشک موسم اور گرد آلود ہواؤں نے شدت اختیار کر لی ہے۔ سال2019ء میں ملتان اور گرد و نواح میں گردو غبار کے طوفان نے فضائی آلودگی کو 200 AQI تک پہنچا دیا تھا جس سے نہ صرف فضائی آلودگی میں اضافہ ہواہے بلکہ سانس اور دیگر بیماریوں میں بھی بہت ذیادہ اضافہ ہوگیا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے باعث ملتان میں ستمبر اور اکتوبر کےمہینوں میں درجہ حرارت بڑھ گیا ہے،جس کے باعث طوفانوں کی شدت میں اضافہ ہوا.
فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیاں انسانی صحت پر بہت برے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی سال2020ء کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ 130,000 افراد فضائی آلودگی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں،جن میں ملتان کا شمار بھی ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں فضائی آلودگی زیادہ ہے۔اس کے علاوہ دنیا بھر کی مختلف تنظیمیں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ فضائی آلودگی کے اثرات سے سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان میں ان میں سب سے زیادہ تعداد پنجاب کے علاقے میں ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
اس مسئلے کا حل نہ صرف عوامی آگاہی ہے بلکہ حکومتی پالیسیاں بھی ہیں جو ماحول کی بہتر حالت کے لیے ضروری ہیں۔سال 2020ء میں، حکومت نے کراچی، لاہور اور ملتان میں ماحولیاتی بہتری کے لیے کئی اقدامات کیے، جیسے کہ درخت لگانا اور ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنا۔
پاکستان انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی نےملک میں فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، لیکن ان اقدامات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ان پر کس حد تک عمل کیا جاتا ہے۔ فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے درمیان تعلق ملتان میں بڑھتے ہوئے چیلنج کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف شہری صحت پر محسوس ہو رہے ہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس میں شدت آ رہی ہے۔فضائی آلودگی سے بیماریوں کا پھیلنا اور گردو غبار کی شدت میں اضافہ ماحولیات کے لیےسنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور عوام مل کر فضائی آلودگی کو کم کرنے اور ملتان اور اس جیسے دیگر شہروں میں صحت کے مسائل کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔