اسلام آباد:گھریلو تشدد کا شکار مردوں کو بھی خواتین اور بچوں کے برابر حق مل گیا۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں گھریلو تشدد کی روک تھام اور دانش سکولزاتھارٹی ترمیمی بل بھی کثرت رائے سے منظور ہوگئے۔
گھریلو تشدد سے تحفظ کے بل ترامیم سے مردوں کو شکایت کا حق دیا گیا۔ اب مردوں کے ساتھ مار پیٹ پر عورتوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہو سکے گی۔
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ 2025، گھریلو تشدد کی روک تھام اوردانش سکولزاتھارٹی ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور ہوگئے۔
سپیکر قومی اسمبلی ایازصادق کی زیرصدارت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایوان نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ 2025 اور گھریلو تشدد کی روک تھام ، بل پرصدرمملکت آصف علی زرداری نے اعتراض عائد کیے تھے، تحفظات کو دور کرکے مسودہ بل ایوان کے سامنے پیش کیا گیا۔ ایوان نے شق وار رائے کے بعد بل کی باضابطہ منظوری دے دی۔
ایوان نےاپوزیشن کےاحتجاج اور ہنگامے میں دانش سکولزاتھارٹی بل کثرت رائے سے منظورکیا، ترمیم کے مطابق دانش سکولز کا قیام متعلقہ صوبائی حکام کی منظوری سے مشروط کیا جائے گا۔
