WhatsApp Image 2026 04 06 at 11.20.43 1

عدالتوں میں سائلین کی لازمی بائیو میٹرک انصاف پر ٹیکس کے مترادف ، آئینی عدالت سے رجوع

ملتان:عدالتوں میں سائلین کی لازمی بائیو میٹرک تصدیق کے وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کر دی گئی۔

درخواست میں سابق صدر ہائیکورٹ بار ملتان سید ریاض الحسن گیلانی نے مؤقف اختیار کیاہے کہ یہ اقدام شہریوں کے بنیادی حقوق کے منافی ہے.
428613 3515108 updates
پٹیشن میں عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ 7 جنوری 2026 کے نوٹیفکیشن اور بعد ازاں 18 مارچ 2026 کو جاری کئے گئے ایس او پیز کے ذریعے مقدمات کے اندراج اور پیروی کے لئے بائیومیٹرک تصدیق کو لازمی قرار دیا گیا ہے، حالانکہ ایسا کوئی تقاضا مروجہ قانونی ڈھانچے میں موجود نہیں ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ بائیومیٹرک تصدیق کو مقدمہ دائر کرنے کی لازمی شرط بنانے سے انصاف تک فوری رسائی کا حق متاثر ہوتا ہے، اس طریقہ کار کے باعث سائلین پر اضافی فیسوں اور دیگر اخراجات کا غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے، دور دراز علاقوں سے آنے والے سائلین کو بائیومیٹرک تصدیق کے لئے مزید سفر، وقت اور مالی وسائل صرف کرنا پڑتے ہیں،یہ شرط مقدمات کے اندراج کے موجودہ قانونی طریقہ کار، خصوصاً ضابطہ دیوانی اور دیگر متعلقہ قوانین سے مطابقت نہیں رکھتی.

درخواست میں عدالت کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی گئی ہے کہ بائیومیٹرک تصدیق کے نام پر 200 روپے فیس مقرر کی گئی ہے جبکہ عملی طور پر سائلین سے تقریباً 300 روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں، جس کے لیے کسی واضح قانونی اختیار یا باقاعدہ قانون سازی کا وجود نہیں ہے۔

WhatsApp Image 2026 03 12 at 04.27.37درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ 7 جنوری 2026 کے نوٹیفکیشن اور 18 مارچ 2026 کے ایس او پیز کو غیر قانونی، بلا اختیار اور آئین سے متصادم قرار دے کر کالعدم کیا جائے اور بائیومیٹرک تصدیق کی شرط کو ختم کیا جائے تاکہ شہریوں کو بلا رکاوٹ انصاف تک رسائی حاصل ہو سکے۔

سید ریاض الحسن گیلانی کا کہنا ہے کہ بائیو میٹرک کی 200 روپے فیس میں سے بڑا حصہ بار ایسوسی ایشنز کو دی جا رہی ہے، جبکہ 20 روپے ہائیکورٹ کے ملازمین کے لئے بھی رکھے گئے ہیں، جو انصاف پر براہ راست ٹیکس ہے، اس لئے آئینی عدالت سے اس فیس کو ختم کرنے کی استدعا کی گئی ہے.

اپنا تبصرہ لکھیں