ملتان:عدالتوں میں سائلین کی لازمی بائیو میٹرک تصدیق کے وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کر دی گئی۔
درخواست میں سابق صدر ہائیکورٹ بار ملتان سید ریاض الحسن گیلانی نے مؤقف اختیار کیاہے کہ یہ اقدام شہریوں کے بنیادی حقوق کے منافی ہے.
پٹیشن میں عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ 7 جنوری 2026 کے نوٹیفکیشن اور بعد ازاں 18 مارچ 2026 کو جاری کئے گئے ایس او پیز کے ذریعے مقدمات کے اندراج اور پیروی کے لئے بائیومیٹرک تصدیق کو لازمی قرار دیا گیا ہے، حالانکہ ایسا کوئی تقاضا مروجہ قانونی ڈھانچے میں موجود نہیں ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ بائیومیٹرک تصدیق کو مقدمہ دائر کرنے کی لازمی شرط بنانے سے انصاف تک فوری رسائی کا حق متاثر ہوتا ہے، اس طریقہ کار کے باعث سائلین پر اضافی فیسوں اور دیگر اخراجات کا غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے، دور دراز علاقوں سے آنے والے سائلین کو بائیومیٹرک تصدیق کے لئے مزید سفر، وقت اور مالی وسائل صرف کرنا پڑتے ہیں،یہ شرط مقدمات کے اندراج کے موجودہ قانونی طریقہ کار، خصوصاً ضابطہ دیوانی اور دیگر متعلقہ قوانین سے مطابقت نہیں رکھتی.
درخواست میں عدالت کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی گئی ہے کہ بائیومیٹرک تصدیق کے نام پر 200 روپے فیس مقرر کی گئی ہے جبکہ عملی طور پر سائلین سے تقریباً 300 روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں، جس کے لیے کسی واضح قانونی اختیار یا باقاعدہ قانون سازی کا وجود نہیں ہے۔

سید ریاض الحسن گیلانی کا کہنا ہے کہ بائیو میٹرک کی 200 روپے فیس میں سے بڑا حصہ بار ایسوسی ایشنز کو دی جا رہی ہے، جبکہ 20 روپے ہائیکورٹ کے ملازمین کے لئے بھی رکھے گئے ہیں، جو انصاف پر براہ راست ٹیکس ہے، اس لئے آئینی عدالت سے اس فیس کو ختم کرنے کی استدعا کی گئی ہے.
