ملتان:سابق صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان اور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ سید ریاض الحسن گیلانی نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کو ایک خط میں ہفتے میں چار دن عدالتی کام کرنے کے فیصلے کو عوامی انصاف کے برعکس قرار دیا ہے.
اپنے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ پہلے ہی دنیا کی وہ واحد عدالت ہے جو سال میں صرف 192 دن کام کرتی ہے، اور اب چار روزہ عدالتی ہفتہ متعارف کروا کر انصاف کی فراہمی کو مزید مشکل کیا جا رہا ہے.
خط میںان کا کہنا ہے کہ اسلام میں تو حالت جنگ میں بھی فراہمی انصاف کا ادارہ ایک لمحے کے لیے بند نہیں ہوتا، لیکن یہاں انصاف کی فراہمی کا عمل مزید سست کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں، ایران جیسے ملک میں جہاں جنگی حالات ہیں، وہاں بھی عدالتیں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں، جبکہ پاکستان میں لاکھوں مقدمات کا بوجھ اٹھائے عدلیہ کے ادارے کو اپنی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے.
انہوں نے کہا کہ اکثر حکومتیں ادارہ کو کمزور کرنے یا انہیں عضوِ معطل بنانے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن عدلیہ کو چاہیے کہ وہ اپنے ادارے کے وقار اور ذمہ داری کا خیال رکھے اور مشکل حالات میں زیادہ محنت کر کے انصاف کی فراہمی کے عمل کو تیز کرے، کیونکہ اس عمل سے انصاف کے متلاشی افراد کو مایوس کن پیغام ملا ہے.
انہوں نے خط میںمزید کہا کہ عدلیہ کی جانب سے جنوبی پنجاب کے عوام کو اب تک جدید ٹیکنالوجی کے ثمرات سے محروم رکھا گیا ہے،اور ویڈیو لنک کے ذریعے مقدمات کی سماعت کی سہولت کو روک دیا گیا، جبکہ دیگر صوبوں میں یہ سہولت پہلے ہی میسر ہے.
خط کے اختتام پر سید ریاض الحسن گیلانی نے مطالبہ کیا کہ عدلیہ ہفتے میں چار دن کام کرنے کی بجائے ہفتے کے ساتوں دن اور روزانہ کم از کم دس گھنٹے کام کرنے کا عزم کرے تاکہ ملک کے عوام کو بروقت اور موثر انصاف فراہم کیا جا سکے اور زیر التواء مقدمات کے بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔

