اسلام آ باد: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایک کروڑ مستحقین کو حکومت نے خوشخبری سنا دی ہے.
اب حکومت کی جانب سے مستحقین کو مارچ 2026ء سے ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے گھر بیٹھے ادائیگیاں ہوں گی۔
یہ اعلا ن وفاقی وزیر تخفیف غربت عمران احمد شاہ کی جانب سے پینل چیئر مین علی زاہد کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں شر میلا فاروقی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کیا گیا۔
وفاقی وزیر تخفیف غربت عمران احمد شاہ نے بتایا کہ مستحقین کو مارچ 2026 سے ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے گھر بیٹھے ادائیگیاں ہوں گی، اس سے کرپشن کا خاتمہ ہوگا اور خواتین کو قطاروں میں لگنے سے نجات ملے گی، ایک کروڑ اکاؤنٹ بن چکے ہیں، فون سمیں تقسیم ہونی ہیں۔
عمران احمد شاہ کا کہنا تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور پاکستان بیت المال کے درمیان 2023 میں معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت ڈیٹا شئیرنگ ہوتی ہے، 40 ہزار کیسز چیک ہوئے جن میں 8 ہزار ڈبل تھےجنہیں نکال دیاگیا ہے جب کہ آگےچل کر مزید بہتری آئے گی۔
دوران اجلاس پی پی رہنما شر میلا فاروقی نے مطالبہ کیا کہ حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں اضافہ کرے۔
اس پر عمران احمد شاہ نے بتایا کہ حکومتی زرمبادلہ کے ذخائر کا وزارتوں کو شیئر نہیں ملتا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے حکومت نے 716ارب روپے مختص کیے ہیں۔
قبل ازیں وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ بھی ایک پریس کانفرنس میںاظہار کر چکے ہیںکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا پر ہمارے شدید اعتراضات ہیں۔
اس طرح پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی میں بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام ( بی آئی ایس پی) سے سرکاری افسران کو اربوں روپے کے کیش ٹرانسفر ہونے کا انکشاف ہوا تھا، نیز مستحقین کی جانب سے امداد میںتقسیم کے دوران ریٹیلرز کی جانب سے کرپشن کرکے کٹوتی اور دیگر مشکلات کا سامنا ہونے کی شکایات بھی سامنےآئی تھیں۔
