نمائندگان:لاہور اور اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیئے گئے ہیں جس کی شدت ریکٹر سکیل پر 5.9 ریکارڈ کی گئی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق لاہور، فیصل آباد راولپنڈی، اٹک، چکوال، میانوالی، ملتان، پوٹھوہار ریجن اور پنجاب کے دیگر اضلاع میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی ۔خیبرپختونخوا کے شہر ملاکنڈ ، مانسہرہ تورغر ، سوات، دیر، مردان، پاراچنار ، خیبر، لنڈیکوتل بونیر ، چترال ، شانگلہ ، نوشہرہ ، بٹگرام ، ایبٹ آباد، کوہاٹ بنوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیئے گئے ہیں ۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق زلزلے کا مرکز ہندوکش ریجن افغانستان تھا، زلزلے کی گہرائی 178 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق متعلقہ انتظامیہ عمارتوں کی چیکنگ میں مصروف ہے، پی ڈی ایم اے کے صوبائی کنٹرول روم سمیت پنجاب بھر کے ضلعی ایمرجنسی آپریشن سنٹرز 24/7 فعال ہیں، زلزلہ سے نقصانات کی اطلاع پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر دی جا سکتی ہے۔شہری زلزلوں کے جھٹکوں سے خوف زدہ ہو کر گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے، زلزلے کی شدت معلوم کی جارہی ہے جبکہ ریسکیو اداروں کو بھی الرٹ کر دیا گیاہے ۔
ضلع دیامر کے نواحی علاقے تھور میں کلاؤڈ برسٹ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔سیلابی ریلوں نےمکانات، زرعی زمینوں، فصلوں، رابطہ سڑکوں، مسجد، مال مویشی، گاڑیوں سمیت واپڈا کالونی کو شدید نقصان پہنچایا,ضلعی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔
سیلاب سے تھور کےعلاقوں شیتن،اینگر اورتھور میک میں زرعی زمینیں، کھڑی فصلیں اور ایک مقامی مسجد سمیت واپڈا کالونی بھی متاثر ہوئی،گولڈ پلیسر کےذریعےنکالا گیا تقریباً دو سو گرام سونا بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا جس کی تلاش جاری ہے۔ضلعی انتظامیہ نےدو مقامات پر رابطہ سڑک بحال کر دی ہے جبکہ دیگر متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام جاری ہے،متاثرہ مکان کے قریب واپڈا کالونی سے چار لاکھ روپے نقد ملے، جو امانت داری کی مثال قائم کرتے ہوئے اصل مالک کے حوالے کر دیے گئے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹرڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی امتیاز احمد کاکہنا ہےکہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا فیلڈ اسٹاف متاثرہ علاقوں میں پہنچ گیا،جہاں متاثرہ خاندانوں میں اشیائےخوردونوش،خیمے اوردیگر ضروری سامان تقسیم کیا گیا۔ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا کہنا ہےکہ ضلعی انتظامیہ سیلاب متاثرین کی امداد اوربحالی کےلیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہےتاکہ متاثرہ خاندانوں کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
پہاڑی اور بالائی علاقوں میں گلیشئر پگھلنے اورممکنہ خطرات کا الرٹ جاری کردیا گیا۔پی ڈی ایم اے کےمطابق گلیشئرزتیزی سےپگھلنے کے باعث دریاؤں،ندی نالوں میں پانی کی سطح اچانک بلند ہوسکتی ہے،دباؤ بڑھنےسےگلیشیائی جھیل سےپانی کااخراج،اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے گلیشئر سے ملحقہ علاقوں کی مقامی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا۔
این ڈی ایم اے نےہنزہ،نگر،غذر،اسکردو،شگر،گانچھے،کھرمنگ،استور،دیامر، اپر ولوئرچترال،سوات اور ملحقہ علاقوں میں خصوصی احتیاط کی ہدایت کی ہے۔این ڈی ایم اےکاکہنا ہےکہ دریاؤں،ندی نالوں ،گلیشیائی جھیلوں کے قریب غیر ضروری نقل وحرکت سے گریز کیا جائے، سیاح، مسافر اورمقامی افراد گلیشئر سےنکلنے والے ندی نالوں،دریا کناروں پرجانےسےاجتناب کریں۔


