Untitled 2026 02 13T195736.093

عدالت نے میاں‌بیوی میں‌صلح‌کرادی، بچوں‌کو تحائف دئیے، جذباتی مناظر

اسلام آباد: ہائیکورٹ میں فیملی کیس کی سماعت کے دوران جذباتی مناظر دیکھنے میں‌آئے اور 3 سال سے قانونی جنگ لڑنے والے میاں‌ بیوی عدالت کے کہنے پر بچوں‌سمیت گھر روانہ ہو گئے.
Untitled 2026 02 13T195743.200
3 سال سے جاری قانونی جنگ میں جسٹس محسن اختر کیانی نےمیاں بیوی کے درمیان صلح کرا دی جس کے بعد اسلام آباد کے رہائشی میاں بیوی اکٹھے رہنے پر راضی ہو گئے۔

سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی کے کمرہ عدالت میں جذباتی منظر دیکھے گئے.

جسٹس محسن اختر کیانی دونوں میاں بیوی کو اکٹھے رہنے پر قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے،جس کے بعد عدالتی حکم نامے پر میاں بیوی نے اکٹھے رہنے کی رضامندی کے دستخط کردیئے۔

سماعت کے دوران میاں بیوی کے 4 بچے بھی عدالت میں پیش ہوئے اور بچوں سے والدین کی کمرہ عدالت میں ملاقات کرائی گئی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے بچوں کو روسٹرم پر بلا کر انٹرویو کیے بچوں نے عدالت کے سامنے والدہ سے کہا کہ ماما آپ گھر آجائیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے بچوں کو تحائف بھی دیئے۔Untitled 2026 02 13T200157.027
عدالت کی جانب سے خاوند کو حکم دیا کہ بیوی کو تاحیات الگ پورشن میں رکھے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ بچوں کا بٹوارا نہیں ہوسکتا، بچے پراپرٹی نہیں ہوتے، یہ مرد کا ہی کام ہے کہ عورت کو منا کر رکھے ،مردوں کی تربیت کا فقدان ہے۔ایک عورت جو اپنےوالدین کاگھر چھوڑ کر آتی ہے اس کو محبت اور احترام ملنا چاہیے، مرد ذرا بیوی کے گھر رہ کر دکھائے نا، مرد کا کام ہے کہ عورت کو الگ رہائش مہیا کرے۔

عدالت نے کہا کہ اس کیس میں ایسا معلوم ہوتاہے کہ میاں بیوی سے زیادہ خاندان کا مسئلہ ہے، عدالت اس کیس میں تحریری آرڈر پاس کرے گی۔

دوران سماعت عدالت میں بچوں کے انٹر ویو ریکارڈ کرنے پر ایک شخص سے موبائل فون لے لیا گیا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ویڈیو ریکارڈ کرنے والے سے سوال کیا کہ آپ نے کیوں ریکارڈنگ کی؟ جس پر اس نے کہا کہ ریکارڈنگ اس لیے کی تاکہ گھر والوں کو دکھاؤں، میں نے گھر والوں کو بتانا تھا کہ یہاں اس قسم کے کیسز بھی ہوتےہیں۔

ویڈیو ریکارڈ کرنے والے نے کہا کہ تاریخی سماعت تھی، پہلےایک کیس میں دیکھا تھا کہ بچوں کوکمرہ عدالت سےنکال دیا گیا، آج خوشی ہوئی کہ آپ نے بچوں کو سنا۔

اپنا تبصرہ لکھیں