ملتان: چیف جسٹس پاکستان کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے انتظامی احکامات کے خلاف ایک آئینی و انتظامی شکایت بھجوائی گئی ہے، جس میں لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے مقدمات کے اندراج کے لیے لازمی بائیومیٹرک تصدیق اور اضافی فیسوں کے نفاذ کو چیلنج کیا گیا ہے۔
درخواست گزار سابق صدر سید ریاض الحسن گیلانی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ اقدام سائلین کے بنیادی حقوق، خصوصاً انصاف تک رسائی کے آئینی حق سے متصادم ہے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے 18 مارچ 2026ء کو جاری سرکلر اور ایس او پیز کے تحت مقدمات کے اندراج کے لیے بائیومیٹرک تصدیق لازمی قرار دی گئی، جبکہ اس مد میں سائلین سے اضافی فیس بھی وصول کی جا رہی ہے۔ درخواست گزار کے مطابق اس رقم کا ایک حصہ بارایسوسی ایشنز کو منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ عدالتی عملے کو "مالی امداد” کے طور پر منتقل کیا جانا قانونی و آئینی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

شکایت میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا کہ پنجاب میں اس پالیسی کے نفاذ سے غریب، دیہی اور ناخواندہ سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ دیگر صوبوں اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایسی شرط نافذ نہیں کی گئی۔ درخواست گزار کے مطابق بائیومیٹرک سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث متعدد سائلین عدالتوں سے رجوع کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں، جس سے انصاف تک رسائی محدود ہو رہی ہے۔
درخواست میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ قیدیوں اور زیرحراست ملزموں کے لیے بھی بائیومیٹرک تصدیق کی شرط غیر ضروری اور غیر عملی ہے، کیونکہ ان کی حاضری یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ درخواست گزار نے چیف جسٹس پاکستان سے استدعا کی ہے کہ مذکورہ نوٹیفکیشن اور ایس او پیز کو غیر آئینی، غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جائے۔
