Untitled 2026 01 13T195210.206

لاہور ہائیکورٹ کی خواتین ججز کے خلاف مہم، ڈی جی این سی سی آئی اے عدالت طلب

لاہور: ہائیکورٹ نے ججوں کے خلاف غیر مناسب پوسٹیں لگانے والوں کی لسٹ بنانےکا حکم دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو ججوں کے خلاف غیر مناسب مواد فوری ہٹانے کی ہدایت کردی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیاء باجوہ نے شہری پرویز الہٰی کی درخواست پر سماعت کی۔
cybercrime
درخواست گزار کی جانب سے میاں داؤد ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ گزشتہ چار ہفتوں سے لاہور ہائیکورٹ کی خواتین ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز نے ججز کے خلاف مہم کی مذمت بھی کی مگر کسی ریاستی ادارے نے کارروائی نہیں کی۔

عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ لاء افسر صاحب یہ بتائیں کیا این سی سی آئی اے کا سو موٹو کا اختیار ختم ہو گیا ہے؟ این سی سی آئی اے کے پاس سائبر پولیسنگ کا اختیار ہے ، ادارہ کیوں سو رہا ہے؟ جس طرح معزز ججز کے خلاف مہم چل رہی ہے، ادارے کیوں خاموش ہیں؟ این سی سی آئی اے قانون کے مطابق ڈیوٹی ادا نہیں کر رہا تو یہ بدنیتی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے ادارے کو ٹارگٹ کرنا سائبر دہشت گردی ہے،کیا این سی سی آئی اے نے کسی کو انکوائری کا لیٹر یا پی ٹی اے کو مواد ہٹانے کے لیے کوئی ایکشن لیا؟

سرکاری وکیل نے بتایا کہ این سی سی آئی اے ہیڈکوارٹرز سے چیک کر لیتے ہیں۔ایڈوکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ ہم ایسی مہم کی مذمت کرتے ہیں۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو این سی سی آئی اے کی معاونت کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیےکہ اب کوئی پوسٹ نظر آئی تو ڈی جی این سی سی آئی اے ذمہ دار ہوں گے، این سی سی آئی اے کی جانب سے کوئی کوشش تو نظر آنی چاہیے، اس معاملے کو ایسے نہیں چھوڑا جاسکتا۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ میرے علم میں آج یہ معاملہ آیا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ کیا بات ہوئی ؟ کہاں ہے سائبر پولیسنگ ؟ کیا آپ نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں؟ پتہ لگوائیں کہ ججز کے خلاف مہم کے پیچھے کون ہے؟عدالت نے ججز کے خلاف غیر مناسب پوسٹس لگانے والوں کی لسٹیں بنانے کا حکم دیتے ہوئے ڈی جی این سی سی آئی اے کو 15 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

خیال رہے کہ پاکستان بار کونسل نے لاہور اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خلاف کردار کشی مہم کی مذمت کی ہے.

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس عبہر گل خان کے خلاف مختلف پوسٹس شیئر کی جا رہی ہیں.

اپنا تبصرہ لکھیں