WhatsApp Image 2026 04 21 at 05.37.31 1

جنم ، قلم اور اظہار الم … سینیئر صحافی اظہار علی عباسی کی صدماتی وفات

غلام دستگیر چوہان

بالی وڈ کے لیجنڈری اداکار عرفان خان نے کیا خوب اور زبردست جملہ بولا تھا کہ ’’جب ہم جیسوں کے دن آتے ہیں موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے‘‘ زندگی میں بارہا اس تلخ جملے کو حقیقت بنتے دیکھا اور ہر بار د ل کرچی کرچی ہو جاتا ہے۔اخبار کی کاپی طباعت کیلئے پرنٹنگ پریس جانے میں کچھ دیر باقی تھی۔ اسی دوران کمپیوٹر پر آن واٹس ایپ پر نظر پڑی تو مختلف صحافتی گروپس میں یہ میسج گردش کررہا تھا کہ” ملتان پریس کلب کے سینئر و اہم رکن اظہار علی عباسی فالج کے اٹیک سے نشتر ہسپتال وارڈ نمبر 7 میں داخل ہیں، حالت تشویش ناک ہے۔ سب دوستوں سے تعاون اور دعاؤں کی درخواست ہے”۔ یہ میسج ان کے کزن کی جانب سے شیئر کیا گیا تھا۔ دل و دماغ کو ایک جھٹکا سا لگا کہ یہ کیسے ہو گیا۔

میں نے اپنے ساتھی سینئر صحافی عبدالحئی بلوچ کو زور سے پکار کر پکار کر یہ اطلاع دی تو وہ بھی سن کر ہکا بکا رہ گئے۔ کچھ ہی دیر میں واٹس ایپ اور فیس بک پرہرطرف اظہار عباسی صاحب پر فالج کے اٹیک کی اطلاع گردش کر رہی تھی۔ ان کے ہزاروں چاہنے والے اس خبر سے شدید کرب میں مبتلا تھے کہ یہ کیسے یہ اچانک کیسے ہو گیا ۔عبدالحئی صاحب نے کسی دوست کے ذریعے معلومات لی تو پتہ چلا کہ ان کا بلڈ پریشر شوٹ کر گیا تھا جو فالج کا سبب بننا اور ان کے جسم کا دایاں حصہ شدید متاثر ہوا ہے ۔ ڈیوٹی ختم کر کے عبدالحئی صاحب نشتر ہسپتال روانہ ہوئے تو میں نے انہیں کہا کہ پہنچ کر طبیعت کا بتانا، ابھی میں راستے میں ہی تھا کہ عبدالحئی صاحب نے یہ روح فرساں خبر سنائی کہ اظہار عباسی صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ یہ سن کر میرا دماغ بھک سے اڑ گیا، کانوں پر یقین نہیں آیا ۔دوبارہ پوچھا تو انہوں نے دل گرفتہ ہو کر کہا کہ اظہار عباسی صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

WhatsApp Image 2026 04 21 at 05.37.31 3
ملتان: اظہار علی عباسی صحافی دوستوں ندیم حیدر اور اظہار ملک کے ہمراہ

دل و دماغ میں ماضی کی باتیں اور یادیں کسی فلم کی ریل کی طرح گردش کر رہی تھیں میں نے جب صحافت میں قدم رکھا تو اظہار عباسی صاحب کا سینئرز میں شمار ہوتا تھا ۔عمر میں گو کہ زیادہ فرق نہیں تھا مگر وہ صحافت میں کئی سال قبل آچکے تھے۔ ملتان پریس کلب کی سیاست اور نیوز روم کی صحافت میں وہ ایک معتبر نام تھے۔ اظہارعباسی صاحب نے کئی بار ملتان پریس کلب کا الیکشن بھی لڑا اور خاص بات یہ ہے کہ وہ ہر بار جیت کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ الیکشن پینل میں صحافی ان کے نام پراوکےکا ٹک لگا کر دیگر امیدواروں کا موازنہ کر رہے ہوتے تھے کہ ان میں سے کون جیتے گا اور کون ہارے گا۔

اظہار عباسی صاحب کو زیادہ تر لوگ ان کے جنم دن ،برسی پیغامات کے حوالے سے جانتے ہیں لیکن ملتان کے نیوز روم کے لوگ گواہ ہیں کہ انہوں نے ساری زندگی نیوز روم کی سربلندی اور سب ایڈیٹرز کی عزت و توقیر میں اضافے کی جنگ لڑی۔ انہوں نے سب ایڈیٹرز کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور سینئر دوست و استاد ندیم احمد شاہین صاحب کے ساتھ مل کرکئی برس قبل ایڈیٹرز ویلفیئر فورم کی بنیاد رکھی۔ اس تنظیم میں اس وقت تقریباً تمام اخبارات سے نیوز روم کے سب ایڈیٹرز نے شمولیت اختیار کی اور ایک کاز پر سب اکٹھے ہو گئے۔ اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے را قم سمیت کئی سب ایڈیٹرز نے الیکشن لڑے اور سب ایڈیٹرز کی طاقت دکھائی مگر کچھ دوستوں کے باہمی اختلافات کے باعث یہ تنظیم مزید کام جاری نہ رکھ پائی۔اظہار عباسی صاحب سب ایڈیٹر تھے اور اس لیے ہمیشہ سب ایڈیٹرز کے حقوق کی بات کی اور ان کے حقوق کی جنگ لڑی، وہ کہتے تھے کہ ہم ایڈیٹرز ہیں۔خبریں ایڈٹ کرتے ہیں۔ ہم سب ایڈیٹر تو ذمہ داریوں اور ادارے کی طرف سے دیئےگئے عہدے کی وجہ سےکہلاتے ہیں۔

WhatsApp Image 2026 04 21 at 05.37.32
اظہار علی عباسی اپنی سالگرہ پر ناصر محمود شیخ کے ہمراہ کیک کاٹ رہے ہیں۔

سال 2015ء میں روزنامہ دنیا ملتان سے شروع ہوا تو اظہار عباسی سمیت ہم بہت سے دوستوں نے دنیا جوائن کر لیا ۔پہلی بار یہاں ان کے ساتھ کام کا موقع ملا اور ان کی مزید خوبیاں عیاں ہوئیں۔ اظہار عباسی صاحب کی ایک خاص بات یہ تھی کہ ان کی ٹیبل کی دراز کینڈیز سے بھری رہتی تھی ۔جب کبھی ہم کام کرتے کرتے تھک جاتے اور منہ کڑوا ہو جاتا تو ہم دوست عباسی صاحب سے بلا تکلف کینڈی مانگتے اور پھر وہ سب ہی میں تقسیم کر دیتے، یہ ان کا معمول تھا۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے سب دوست اس کے گواہ ہیں۔ عباسی صاحب بے اولاد تھے۔ اس لئے انہیں بچوں سے بہت پیار تھا ۔اس کمی کو وہ اللہ کی رضا سمجھ کر صبر کر جاتے تھے۔ روزنامہ دنیا میں جب ہم تھے تو وہاں پر باقاعدہ باجماعت نماز کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ اظہار عباسی صاحب اکثر امامت کراتے اور سورہ صافات کی آیات 180 تا 182 کی تلاوت ان کا معمول ہوتی جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے، "باقی ہے تمہارے رب کو ،عزت والے رب کو، ان کی باتوں سے اور سلام ہے پیغمبروں پر، اور سب خوبیاں ہی اللہ کو، جو سارے جہاں کا رب ہے”۔

اظہار عباسی صاحب کے رشتہ دار آئرلینڈمیں مقیم ہیں۔ وہ اکثر اس معاشرے اور وہاں کے رہن سہن کے بارے میں بتاتے رہتے تھے۔ اب برادرم ناصر محمود شیخ صاحب کے قلم سے معلوم ہوا کہ وہ بھی بیرون ملک جانے کیلئےکوشاں تھے مگر ان کا ویزا مسترد ہو گیا تھا جس پر وہ بہت دل گرفتہ تھے۔ شاید یہی صدمہ انکے لئے جان لیوا ثابت ہوا ۔ اظہار عباسی صاحب کافی عرصے سے بے روزگار تھے ۔شہد کی طرح میٹھے شخص نے زندگی کی گزر بسر کیلئے کاروبار بھی شہد کا چنا ۔وہ پی ٹی وی سمیت مختلف سوشل میڈیا چینلز کیلئے بھی کام کر رہے تھے مگر یہ سب گزر بسر کیلئےنا کافی تھا ۔انہیں صرف مصروف رکھنے کا بہانہ ضرور کہا جا سکتا ہے۔ان کا ویزا ریجیکٹ ہوا، شاید اگلی بار منظور بھی ہو جاتا اور وہ نئی زندگی کا آغاز کرتے مگر قسمت نے انہیں مزید مہلت نہ دی۔ اسی لئےپھریہی بات یادآجاتی ہےکہ بقول اداکار عرفان خان "جب ہم جیسوں کے دن آتے ہیں موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے” اظہار عباسی صاحب 17 اپریل 2026 کو راہی ملک عدم ہوئے ۔ملتان کے سب ایڈیٹرز کی توانا آواز ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی۔

رئیس فروغ نے کیا خوب کہا تھا :
لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں۔

WhatsApp Image 2026 04 21 at 05.37.31
غلام دستگیر چوہان بنیادی طور پر ملتان سے تعلق رکھتے ہیں اور سینیئر صحافی و کالم نگار ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں