ملتان: پنجاب کی عدالتوں میں سائلوں کی لازمی بائیو میٹرک تصدیق ختم نہیںکرنے اور مطالبات منظور نہیں ہونے پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی عدالت کے گھیراؤ اور لانگ مارچ کا اعلان کر دیا گیا۔
ضلع کچہری ملتان میں وکلاء کا بائیو میٹرک تصدیق کے خلاف احتجاج کیا گیا، جس میں شدید گرمی کے باعث خاتون وکیل بے ہوش ہو گئی، جس کو ریسکیو 1122 کے ذریعے نشتر ایمرجنسی منتقل کر دیا گیا.
ڈسٹرکٹ بار ملتان میں لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے سائلین کے لئے لازمی بائیو میٹرک لازمی قرار دینے اور اس مد میں فیس وصولی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا.
مظاہرے کی قیادت سابق صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان سید ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے کی.
وکلاءنے عدالتی پالیسی کو سائلین کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ بائیو میٹرک تصدیق کی شرط فوری طور پر واپس لی جائے.
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سید ریاض الحسن گیلانی نے کہا کہ اگر وکلاء کے مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو احتجاج کا دائرہ ہر تحصیل اور ہر ضلع تک پھیلا دیا جائے گا، انہوں نے اعلان کیا کہ وکلاء کی آخری منزل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی عدالت کی طرف لانگ مارچ اور گھیراؤ ہو گا، جہاں وکلاء اپنے مطالبات کی منظوری تک دھرنا دیں گے. انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس پالیسی کے ذریعے کروڑوں روپے کی "عدالتی بھتہ گیری” اور رشوت ستانی کو فروغ دیا جا رہا ہے.
احتجاجی مظاہرے سے نشید عارف گوندل، سید اقبال مہدی زیدی، سید ذاکر حسین نقوی، ملک محبوب سندیلہ، سرفراز حسین، سید حسین علی بخاری، انصر دھرالہ، جہانزیب، عرفان سندھو، سید منظور حسین، مہر حسیب قادر، سجاد حسین ٹانگرہ، اللہ دتہ کاشف بوسن، سلیم راؤ، افتخار گل، ندا عارف، رانا اسرار، سلیم خان لودھی، رانا عرفان مطلوب، اعتزاز لطیف، حسن خان، غلام نبی طاہر، طاہر سلیم ہنجرا، ثوبیہ چوہان، ثوبیہ اسلم، طیبہ فاروق کمبوہ نے بھی خطاب کیا.
مقررین نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر سائلین کے لیے بائیو میٹرک تصدیق لازمی قرار دینا اور اس کے عوض 200 روپے فیس وصول کرنا غریب عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے، ان کے مطابق اس رقم میں سے 60 روپے بار ایسوسی ایشن جبکہ 20 روپے عدالتی عملے کے لئے مختص کئے گئے ہیں، حالانکہ عدالتی اہلکار پہلے ہی حکومت سے بھاری تنخواہیں اور مراعات حاصل کر رہے ہیں.
احتجاج کے دوران شدید گرمی کے باعث خاتون وکیل شمیم اختر کی طبیعت خراب ہو گئی اور وہ بے ہوش ہو گئیں، جس پر فوری طور پر ریسکیو 1122 کی ایمبولینس بلائی گئی، جس میں انہیں نشتر ہسپتال ایمرجنسی منتقل کر دیا گیا۔
سید ریاض الحسن گیلانی نے بتایا کہ ہسپتال روانگی سے قبل شمیم اختر نے احتجاج جاری رکھنے کا پیغام دیا اور کہا کہ ناانصافی کے خلاف جدوجہد کسی صورت ختم نہیں ہونی چاہیے۔
