WhatsApp Image 2026 10 11 at 09.26.06

بچیوں کے حقوق؛ تعلیم، تحفظ اور مساوی مواقع کے لیے فوری اقدامات ناگزیر

انیلہ اشرف

بچیوں کا عالمی دن ہر سال 11 اکتوبر کو منایا جاتا ہے تاکہ بچیوں کے حقوق، تعلیم، صحت، تحفظ اور صنفی مساوات کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اقوامِ متحدہ نے 2011 میں اس دن کو تسلیم کیا اور پہلی مرتبہ یہ دن 2012 میں منایا گیا۔ سال 2026 کا موضوع ’’کم عمری کی شادی کا خاتمہ اور بچیوں کے حقوق میں سرمایہ کاری‘‘ ہے، جو بچیوں کو محفوظ بچپن، معیاری تعلیم اور اپنے مستقبل کے فیصلے کرنے کے مواقع فراہم کرنے پر زور دیتا ہے۔

پاکستان میں بچیوں کو تعلیم سے محرومی، غربت، کم عمری کی شادی، غذائی قلت، صنفی امتیاز اور تشدد جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ یونیسف پاکستان کے مطابق ملک میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں، جو اس عمر کے بچوں کی آبادی کا تقریباً 35 فیصد ہیں۔ ان میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں، تاہم متعدد علاقوں میں بچیوں کو تعلیم کے حصول میں اضافی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سکولوں کا گھروں سے دور ہونا، محفوظ آمدورفت کی کمی، غربت، گھریلو ذمہ داریاں اور تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان بچیوں کی تعلیم متاثر کرنے والے اہم عوامل ہیں۔ بلوچستان سمیت کئی پسماندہ علاقوں میں تعلیمی محرومی ایک سنگین چیلنج ہے۔
WhatsApp Image 2026 10 11 at 09.26.06 1
یونیسف کے ملکی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 20 سے 24 سال کی عمر کی تقریباً 18 فیصد خواتین کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے ہو چکی تھی۔ یہ شرح کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے مسلسل اقدامات کی ضرورت ظاہر کرتی ہے، کیونکہ کم عمری کی شادی سے بچیوں کی تعلیم منقطع ہونے، معاشی خودمختاری محدود ہونے اور کم عمری میں حمل کے باعث صحت کے خطرات بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سماجی تنہائی، گھریلو تشدد اور ذہنی دباؤ بھی ان کی زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے بچیوں کی تعلیم جاری رکھنے میں معاونت، خاندانوں کو معاشی تحفظ، متعلقہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد اور نقصان دہ سماجی رویوں میں تبدیلی ضروری ہے۔

دنیا بھر میں بھی بچیوں کے حقوق کی صورتِ حال تشویش ناک ہے۔ یونیسف کے مطابق تقریباً 65 کروڑ خواتین اور بچیاں ایسی ہیں جن کی شادی بچپن میں ہوئی تھی۔ ہر سال مزید ایک کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ بچیوں کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے کر دی جاتی ہے۔تعلیم کے میدان میں یونیسکو کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 13 کروڑ 30 لاکھ بچیاں اسکولوں سے باہر ہیں۔ یہ تعلیمی محرومی نہ صرف ان کی ذاتی ترقی بلکہ مستقبل میں روزگار، معاشی خودمختاری اور سماجی شرکت کے امکانات کو بھی محدود کرتی ہے۔

تشدد بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ یونیسف کے اندازوں کے مطابق 15 سے 19 سال کی عمر کی تقریباً ہر چار میں سے ایک ایسی لڑکی، جو کبھی شادی شدہ رہی ہو یا کسی ساتھی کے ساتھ تعلق میں رہی ہو، اپنی زندگی میں قریبی ساتھی کی جانب سے تشدد کا سامنا کر چکی ہے۔کم عمری کی شادی کی شرح سب صحارا افریقہ میں سب سے زیادہ ہے، جہاں تقریباً 31 فیصد لڑکیوں کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے ہو جاتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بچیوں کے حقوق کا تحفظ ایک عالمی ذمہ داری ہے۔
WhatsApp Image 2026 10 11 at 09.26.05
بچیوں کی تعلیم، صحت، تحفظ اور معاشی خودمختاری میں سرمایہ کاری پورے معاشرے کی ترقی کے لیے اہم ہے۔ تعلیم یافتہ بچیوں کے لیے بہتر روزگار، صحت سے متعلق باخبر فیصلوں اور معاشی خودمختاری کے امکانات بڑھتے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے مطابق گزشتہ 25 برسوں میں تعلیم، قانونی اصلاحات اور سماجی تحفظ کے اقدامات کے ذریعے دنیا بھر میں اندازاً 6 کروڑ 80 لاکھ کم عمری کی شادیاں روکی گئی ہیں۔ یہ پیش رفت ثابت کرتی ہے کہ مناسب وسائل اور مؤثر پالیسیوں کے ذریعے مثبت تبدیلی ممکن ہے۔

پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد کم کرنے، تعلیمی وظائف بڑھانے، سکولوں میں صاف پانی اور محفوظ بیت الخلا فراہم کرنے اور بچیوں کے لیے محفوظ آمدورفت یقینی بنانے پر توجہ دینا ہوگی۔ اس کے ساتھ کم عمری کی شادی کی روک تھام، بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے اور متاثرہ بچیوں کو قانونی و نفسیاتی معاونت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔والدین، اساتذہ، سماجی تنظیموں، مذہبی رہنماؤں اور ذرائع ابلاغ کو بھی بچیوں کی تعلیم اور حقوق کے حوالے سے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ پالیسی سازی میں خود بچیوں کی آواز شامل کرنا بھی ضروری ہے تاکہ اقدامات ان کی حقیقی ضروریات کے مطابق ہوں۔

بچیوں کا عالمی دن 2026 اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہر بچی محفوظ بچپن، معیاری تعلیم، صحت، تشدد سے تحفظ اور اپنے مستقبل کے فیصلے کرنے کا حق رکھتی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان حقوق کے تحفظ کے لیے محض آگاہی کافی نہیں؛ مؤثر قوانین، مستقل سرمایہ کاری اور اجتماعی کوششیں بھی ضروری ہیں۔ بچیوں کے حقوق میں سرمایہ کاری دراصل ایک محفوظ، تعلیم یافتہ اور خوشحال مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔

Untitled 2025 10 08T204750.958
انیلہ اشرف سینیئر صحافی، میڈیا ٹرینر ہونے کے ساتھ لب آزاد کی بانی ایڈیٹر ہیں، اور مختلف موضوعات پر لکھتی رہتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں