لاہور: ہائیکورٹ (پرنسپل سیٹ لاہور) نے زکریا یونیورسٹی ملتان کے سابق لیکچرار جُنید حفیظ کی توہینِ مذہب کے مقدمے میں سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت کی اور استغاثہ سے برقی (الیکٹرانک) شواہد کی قابلِ قبولیت کے بارے میں دلائل طلب کر لئے۔
جنید حفیظ کو سال 2019ء میں سزائے موت سنائی گئی تھی، جبکہ ان کی سزا کے خلاف اپیل سال 2020ء سے زیرِ التواء ہے۔
پرنسپل سیٹ لاہور ہائیکورٹ پر جسٹس صادق محمود خرم اور جسٹس محمد جواد ظفر پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اپیل کی سماعت کی۔ استغاثہ کی جانب سے ایڈووکیٹ غلام مصطفیٰ چوہدری جبکہ جنید حفیظ کی جانب سے ایڈووکیٹ اسد جمال عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے آغاز پر بینچ نے نشاندہی کی کہ اس اپیل پر ملتان بینچ سے پرنسپل سیٹ منتقل ہونے کے بعد فریقین کو باقاعدہ نوٹس جاری نہیں کیے گئے تھے۔یہ مقدمہ جنید حفیظ کے وکیل کی درخواست پر دسمبر 2021ء میں ملتان سے لاہور منتقل کیا گیا تھا۔اس دوران لاہور ہائیکورٹ نے اپیل پر نوٹس جاری کیے، جو جنید حفیظ کی جانب سے اسد جمال ایڈووکیٹ اور استغاثہ کی جانب سے ایڈووکیٹ چوہدری غلام مصطفیٰ نے عدالت میں وصول کیے۔
عدالت نے مزید کہا کہ وہ مقدمے میں موجود الیکٹرانک شواہد اور حفیظ سے منسوب فیس بک پیج کی قابلِ قبولیت کے معاملے پر استغاثہ کے دلائل سننا چاہتی ہے۔اس کے بعد عدالت نے سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم جنیدحفیظ کے وکیل نے اپنے دلائل کی تیاری کے لیے مزید وقت طلب کرتے ہوئے طویل التواء کی درخواست کی۔جس پر بینچ نے کہا کہ آئندہ سماعت کی تاریخ بعد میں مقرر کی جائے گی۔
یاد رہے کہ جنید حفیظ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی (BZU) کے شعبۂ انگریزی ادب میں سابق وزیٹنگ لیکچرار تھے۔ انہیں پولیس نے 13 مارچ 2013ء کو گرفتار کیا تھا، جبکہ فیس بک پر اپ لوڈ کی گئی مبینہ مواد سے متعلق توہینِ مذہب کے مقدمے کی سماعت 2014ء میں شروع ہوئی۔
مقدمہ کی سماعت کے بعد ایڈیشنل سیشن جج ملتان نے 21 دسمبر 2019ء کو توہینِ مذہب کے الزامات میں انہیں سزائے موت سنائی تھی، جس کے بعد انہوں نے 2020ء میں اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کی۔
جنید حفیظ کے مقدمے کے دوران کم از کم 7 ججوں کے تبادلے ہوئے۔ استغاثہ کے 15 گواہوں نے حفیظ کے خلاف اپنے بیانات قلم بند کرائے، جبکہ مزید 11 گواہوں کو غیر متعلق قرار دیئے جانے کے بعد طلب نہیں کیا گیا۔قبل ازیں سکیورٹی خدشات کے باعث محکمہ داخلہ پنجاب نے اپریل 2014ء میں مقدمہ کی سماعت ملتان سینٹرل جیل منتقل کر دی تھی۔
جنید حفیظ کے سابق وکیل راشد رحمان کو مئی 2014ء میں ان کے دفتر میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس سے ایک ماہ قبل ہی انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے راشد رحمان کو دی جانے والی جان سے مارنے کی دھمکیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ راشد رحمان کمیشن کی خصوصی ٹاسک فورس کے کوآرڈینیٹر بھی تھے۔
دسمبر 2014ء میں جنید حفیظ کی پیروی کرنے والے ایک اور وکیل کو بھی عسکریت پسند تنظیم اسلامی ریاست (داعش) کی جانب سے دھمکی آمیز خط موصول ہوا تھا، جس میں انہیں مقدمے سے دستبردار ہونے کی تنبیہ کی گئی تھی۔
موجودہ اپیل کی سماعت بھی متعدد بار ملتوی کی جا چکی ہے۔

