Suprm Crt 2

سروس مقدمات میں‌ اپیل کنندہ کی وفات سے قانونی حق ختم نہیں‌ہوتا، سپریم کورٹ

لاہور:سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اپیل کنندہ کی وفات کے باوجود اگر اس کے قانونی ورثا موجود ہوں تو اپیل محض اس بنیاد پر خارج نہیں کی جا سکتی، کیونکہ زیرِ سماعت مقدمہ سے حاصل ہونے والے مالی یا دیگر فوائد قانونی ورثا کو منتقل ہو سکتے ہیں۔
969460 16589985
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ایف بی آر کے سابق ملازم عبد الحق کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا.

بینچ نے اپیل پر سماعت کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹربیونل کو ہدایت کی کہ وہ محکمانہ ترقی سے متعلق اپیل کا فیصلہ تین ماہ میں کرے ۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگر اپیل کنندہ دورانِ مقدمہ فوت ہو جائے تو اس کے قانونی ورثا مقدمہ کو آگے بڑھا سکتے ہیں، خصوصاً جب زیرِ تنازع معاملے سے حاصل ہونے والے فوائد قانونی ورثا کو مل سکتے ہوں۔

اپیل کنندہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عبد الحق ایف بی آر میں اپر ڈویژن کلرک کے عہدے پر تعینات تھا، 1995ء میں اسی عہدے کے 15 ملازمین کو ترقی دے کر سپروائزر بنا دیا گیا، تاہم عبد الحق کو ترقی کی فہرست میں نظر انداز کر دیا گیا۔

وکیل کے مطابق عبد الحق نے چیف کمشنر انکم ٹیکس کو درخواست دی، جس کے نتیجے میں اسے سال 2000ء میں ترقی دے دی گئی ، بعد ازاں اس نے چیف کمشنر انکم ٹیکس کے احکامات کو فیڈرل سروس ٹربیونل میں چیلنج کیا۔
gavel
وکیل نے بتایا کہ عبد الحق 13 جنوری 2019ء کو انتقال کر گیا، جبکہ فیڈرل سروس ٹربیونل نے 16 جنوری 2019ء کو اس کی درخواست داخل دفتر کر دی، فیڈرل سروس ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف عبد الحق کے بیٹے نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

سپریم کورٹ نے معاملہ نمٹاتے ہوئے فیڈرل سروس ٹربیونل کو حکم دیا کہ وہ قانونی ورثا کی جانب سے دائر اپیل پر قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے تین ماہ کے اندر فیصلہ کرے۔

اپنا تبصرہ لکھیں