955876 69887331

بیرون ملک جانے والی خاتون سمیت 3 مسافر غلط بیانی پر آف لوڈ کر دئیے گئے

کراچی:ایف آئی اے نے مبینہ جعلی میڈیکل دستاویزات پر ملائیشیا جانے والے 2 مسافروں، جبکہ باکو جانے والی خاتون مسافر کو ممکنہ جنسی استحصال کے معاملے پر آف لوڈ کر دیا۔
plane
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے ) کے امیگریشن سرکل نے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر دو مختلف کارروائیوں کے دوران خاتون سمیت 3 افراد کو آف لوڈ کر دیا۔

ملائیشیا جانے والے وسیم حیدر اور ساجد پرویز کو جعلی میڈیکل دستاویزات کے ذریعے اصل سفری مقصد چھپانے پر جبکہ باکو جانے والی (ح) کو مشکوک سفری مقصد اور ممکنہ جنسی استحصال/انسانی اسمگلنگ کے شبہ میں گرفتار کر کے مزید قانونی کارروائی کے لیے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل کراچی کے حوالے کر دیا۔

حکام کے مطابق ملائیشیا جانے والے مسافر وسیم حیدر نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا کہ وہ ریڑھ کی ہڈی کے علاج کے لیے ملائیشیا جا رہا ہے، جبکہ ساجد پرویز اس کا اٹینڈنٹ ہے تاہم تفصیلی پوچھ گچھ کے دوران دونوں نے اعتراف کیا کہ ان کا اصل مقصد ملائیشیا میں ملازمت حاصل کرنا تھا۔

تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ مبینہ سہولت کار ریحان اور عمران نے دونوں مسافروں کے وزٹ ویزوں اور ائیر ٹکٹس کا انتظام کیا، تاہم اصل سفری مقصد چھپانے کے لیے وسیم حیدر کے نام سے مبینہ طور پر جعلی ایم آر آئی رپورٹ بھی تیار کی گئی۔مسافروں کے مطابق انہیں ائیرپورٹ پر طبی علاج کے لیے سفر کرنے کا بیان دینے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔جس پر دونوں مسافروں کو پرواز سے آف لوڈ کر کے سہولت کاروں ریحان اور عمران سمیت مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے اے ایچ ٹی سی کراچی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
428336 1527544 updates
دوسری کارروائی میں خاتون کو آذربائیجان کے شہر باکو جاتے ہوئے مشکوک سفری مقصد کی بنیاد پر مزید پوچھ گچھ کے لیے روکا گیا، دوران تفتیش مسافرہ نے انکشاف کیا کہ وہ ایک ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے رابطے میں آنے والے ایک شخص سے ملاقات کے لیے باکو جا رہی تھی جس کے عوض اسے مبینہ طور پر 3 لاکھ روپے ملنے تھے، اس طرح سفر اور رہائش کے اخراجات بھی مذکورہ شخص کی جانب سے برداشت کیے جانے تھے۔

مسافرہ کے موبائل فون کی رضاکارانہ جانچ کے دوران متعدد مشتبہ چیٹس اور ایسے رابطوں کا انکشاف ہوا جن میں رقم کے عوض جنسی ملاقاتوں سے متعلق گفتگو موجود تھی۔مسافرہ نے ماضی میں اپنے جنسی استحصال اور جسمانی تشدد سے متعلق بھی اہم معلومات فراہم کیں، نیز کراچی میں ایک مبینہ نیٹ ورک کے ذریعے اسے دیگر خواتین کے ساتھ رکھنے اور استحصال کیے جانے کے دعوے بھی سامنے آئے۔

ابتدائی معلومات کی روشنی میں خاتون کے معاملے میں جنسی استحصال اور انسانی سمگلنگ کے پہلوؤں سمیت تمام حقائق کی جامع تحقیقات کی جا رہی ہیں، مسافرہ کو متاثرہ فرد کے طور پر بھی مزید قانونی و حفاظتی پہلوؤں سے جانچا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں