لاہور ہائیکورٹ نے فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف شوہر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ذہنی، زبانی اور معاشی تشدد بھی ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے خلع سے متعلق کیس میں شوہر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
عدالت نے کہا کہ خلع کی ڈگری دائر کرنے سے بیوی کا حق مہر خودکار طور پر ختم نہیں ہوتا، شوہر کی طرف سے ظلم ثابت ہونے پر بیوی حق مہر کی حقدار ہوگی، جسمانی، ذہنی، جذباتی، زبانی اور معاشی تشدد بھی ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کا کہنا تھا درخواست گزار نے 18 مارچ 2022 ءمیں ایک لاکھ روپے حق مہرمقرر کر کے نکاح کیا تھا، خاتون نے خلع، عدت کے نان نفقہ اور حق مہر کی وصولی کے لیے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا، خاتون کا مؤقف تھا کہ حق مہر کا مطالبہ کرنے پر شوہر نے تشدد شروع کردیا۔
عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ فیملی کورٹ نے نکاح ختم کرتے ہوئے بیوی کو 50 فیصد حق مہر دینے کا حکم دیا، ٹرائل کورٹ نے بھی درخواست گزار کی اپیل ناقابل سماعت قرار دے دی تھی.
درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، بیوی کی قابل اعتماد گواہی ظلم ثابت کرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔
عدالت کا کہنا تھا میڈیکل رپورٹ یا ایف آئی آر نہ ہونے سے ظلم کا دعویٰ مسترد نہیں کیا جا سکتا، خرچہ نہ دینا، والدین سے رقم مانگنا اور گھر سے نکال دینا بھی ظلم میں شامل ہو سکتا ہے، فیملی کورٹ ہر مقدمے کے حقائق دیکھ کر حق مہر کا الگ فیصلہ کرے گی، ظلم ثابت ہونے پر حق مہر نہ کم کیا جا سکتا ہے اور نہ تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ بیوی کی واضح رضامندی کے بغیر عدالت خلع کی ڈگری نہیں دے سکتی، فیملی کورٹ حق مہر سے متعلق ہر فیصلے کی وجوہات ریکارڈ پر لانے کی پابند ہوگی، عدالت نے متعدد ہدایت کے ساتھ درخواست خارج کردی۔

