لاہور: قومی کانفرنس میں خواتین صحافیوں کے خلاف اے آئی پر مبنی صنفی تشدد کے خاتمے، مضبوط قانونی اقدامات اور میڈیا یونینز میں خواتین کی قیادت بڑھانے کے مطالبات کئے گئے.
دو روزہ قومی کانفرنس "رائزنگ ٹوگیدر” پاکستان کی یونینز میں صنفی مساوات اور تنوع کے فروغ کی حکمتِ عملی” کے شرکاء نے خواتین کے خلاف ہر قسم کے تشدد، بالخصوص خواتین صحافیوں کو نشانہ بنانے والے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی صنفی تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت، میڈیا اداروں، ٹریڈ یونینز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سول سوسائٹی سے فوری، مؤثر اور مشترکہ اقدامات کا مطالبہ کیا۔
یہ کانفرنس انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس اور ایف ای ایس کے زیراہتمام لاہور کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے خواتین صحافیوں، مزدور و میڈیا یونین رہنماؤں، قانونی ماہرین، اساتذہ، انسانی حقوق کے کارکنوں اور میڈیا کے طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔
مقررین نے کہا کہ خواتین صحافی آج بھی ملازمت کے عدم تحفظ، صنفی امتیاز، کم نمائندگی، آن لائن ہراسگی، ڈیجیٹل تشدد اور فیصلہ سازی کے اہم عہدوں سے محرومی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی تصاویر (Deepfakes)، کردار کشی، آن لائن ہراسانی اور غلط معلومات پھیلانے جیسے نئے خطرات خواتین صحافیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانون سازی، سخت عملدرآمد اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جوابدہی ناگزیر ہے۔
کانفرنس کے شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خواتین صحافیوں کو اے آئی پر مبنی صنفی تشدد سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے جامع قانون سازی، مؤثر نفاذ اور مضبوط ادارہ جاتی نظام قائم کیا جائے۔ ساتھ ہی میڈیا اداروں پر زور دیا گیا کہ وہ محفوظ، مساوی اور ہراسگی سے پاک کام کا ماحول فراہم کریں اور صنفی حساس پالیسیوں کو یقینی بنائیں۔
کانفرنس کے مختلف سیشنز میں خواتین کے لیبر رائٹس، ملازمت کے معاہدے، کام کی جگہ پر ہراسگی، قانونی تحفظ، میڈیا میں مساوی مواقع اور میڈیا یونینز میں خواتین کی مؤثر شمولیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد اور احتساب کے مضبوط نظام کے بغیر خواتین کو درپیش مسائل کا حل ممکن نہیں۔
کانفرنس کا ایک اہم سیشن "ری رائٹنگ دی اسٹوری” تھا، جس میں میڈیا میں خواتین کی نمائندگی، خبروں میں موجود ظاہری اور پوشیدہ صنفی تعصبات اور خواتین کی مثبت و بااختیار تصویر پیش کرنے کی ضرورت پر تفصیلی بحث کی گئی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا کو صنفی دقیانوسی تصورات کو فروغ دینے کے بجائے مساوات اور احترام پر مبنی بیانیہ تشکیل دینا چاہیے۔
کانفرنس کے اختتام پر متعدد اہم سفارشات پیش کی گئیں جن میں میڈیا یونینز میں خواتین کی رکنیت اور بامعنی شمولیت میں اضافہ، قیادت اور فیصلہ سازی کے عہدوں پر خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنانا، خواتین کے حقوق کے لیے اجتماعی آواز کو مضبوط کرنا، میڈیا اداروں میں صنفی مساوات کو فروغ دینا اور نوجوان خواتین صحافیوں کے لیے رہنمائی اور سرپرستی کے مواقع بڑھانا شامل ہیں۔
کانفرنس نے "فار ویمن، بائے ویمن” کے تصور کو عملی شکل دیتے ہوئے اس بات کا ثبوت دیا کہ اگرچہ خواتین مختلف پس منظر اور نظریات رکھتی ہیں، مگر صنفی مساوات، انصاف، وقار اور اجتماعی مفاد کے لیے پاکستانی خواتین متحد ہیں۔ سینئر صحافیوں، مڈ کیریئر پروفیشنلز، نوجوان صحافیوں، میڈیا کے طلبہ و طالبات اور رضاکاروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایک محفوظ، مساوی اور جامع میڈیا ماحول کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔
شرکاء نے امید ظاہر کی کہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) اور فریڈرش ایبرٹ شٹفٹنگ (FES) مستقبل میں بھی خواتین صحافیوں کی قیادت، صنفی مساوات اور میڈیا میں محفوظ و بااختیار ماحول کے فروغ کے لیے ایسے اقدامات کا دائرہ مزید وسیع کریں۔کانفرنس سے ایف ای ایس کے پروگرام ایڈوائزر عبداللہ ڈیو،حیدر محمود، پروفیسر ڈاکٹر سویرا شامی،پروفیسر ڈاکٹر رابعہ نور، آئمہ محمود،فرحت مقصود,نیئر علی, شہربانو،لبنیٰ جرار،فرزانہ علی،شیما صدیقی سمیت ملک بھر سے آئی ہوئی خواتین صحافیوں،لیبر و ٹریڈ یونین کی نمائندگان نے خطاب کیا۔


