punjab bar council

پنجاب بار کونسل:جعلی وکلاء کے خلاف کریک ڈاؤن،فوجداری مقدمات درج کرانے کا فیصلہ

ملتان:پنجاب بار کونسل نے جعلی، بوگس اور جعلی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر وکالت کا لائسنس حاصل کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے صوبہ بھر کی بار ایسوسی ایشنز سے ایسے افراد کی تفصیلات طلب کر لی ہیں تاکہ ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جا سکیں۔
Untitled 2026 02 24T220324.254
پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین خواجہ قیصر بٹ اور ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین فخر حیات اعوان کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق کونسل نے 10 اپریل 2026ء کو محدود مدت کی ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی تھی، جس کے تحت جعلی، فرضی یا غیر قانونی تعلیمی دستاویزات کی بنیاد پر اندراج اور لائسنس حاصل کرنے والے افراد کو رضاکارانہ طور پر اپنے لائسنس اور انرولمنٹ سرٹیفکیٹ جمع کرانے کا موقع دیا گیا تھا۔

اعلامیے کے مطابق ایمنسٹی سکیم 13 اپریل سے 13 مئی 2026 تک نافذ رہی، جسے بعد ازاں 31 مئی اور پھر 10 جون 2026 تک توسیع دی گئی۔ اس دوران لائسنس واپس کرنے والے افراد کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔

پنجاب بار کونسل نے واضح کیا ہے کہ ایمنسٹی کی مدت اب مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور اب جعلی دستاویزات کے ذریعے حاصل کردہ لائسنس پر وکالت کرنے یا خود کو وکیل ظاہر کرنے والے افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی ہو گی۔ ایسے افراد کے لائسنس منسوخ کیے جائیں گے اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات بھی درج کرائے جائیں گے۔Untitled 2026 01 24T210018.145

نوٹس میں پنجاب بھر کی ہائیکورٹس، ضلعی اور تحصیل بار ایسوسی ایشنز کے صدور اور سیکریٹریز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے علم میں موجود جعلی وکلاء کے نام اور مکمل کوائف پنجاب بار کونسل کو فراہم کریں تاکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

پنجاب بار کونسل نے تمام بار ایسوسی ایشنز کو اپنے اراکین کا مکمل ریکارڈ مرتب کرنے اور وکلاء کی تعلیمی اسناد کی تصدیق ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے کرانے کی بھی ہدایت جاری کی ہے۔ اس ضمن میں تین ماہ کے اندر عملدرآمد رپورٹ پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کو جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق ہر بار ایسوسی ایشن اپنے ہر رکن کی ذاتی فائل برقرار رکھے گی جس میں میٹرک سے ایل ایل بی تک تعلیمی ریکارڈ، ڈگریاں، ٹرانسکرپٹس، پنجاب بار کونسل کا لائسنس، شناختی کارڈ اور دیگر متعلقہ دستاویزات شامل ہوں گی۔WhatsApp Image 2026 06 20 at 00.13.47

پنجاب بار کونسل کا کہنا ہے کہ وکالت کے پیشے کے وقار، ساکھ اور شفافیت کے تحفظ کے لیے پوری قانونی برادری کو متحد ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ جعلی وکلاء کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے افراد کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی جبکہ اس مقصد کے لیے پنجاب بار کونسل نے "کیو سہولت” پورٹل پر خصوصی رپورٹنگ سسٹم بھی متعارف کرا دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں