لاہور: پنجاب سروس ٹربیونل لاہور نے قتل کے مقدمہ میںطویل عرصہ بعد رہائی پانے والے سکول ٹیچر کی جبری ریٹائرمنٹ کا حکم منسوخکرتے ہوئے واجبات سمیت بحال کرنے کا حکم دیا ہے.
فاضل ٹربیونل میںسابق پی ایس ٹی گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول اچلا، تحصیل نوشہرہ، خوشاب نوبت علی نے درخواست دائر کی تھی.
درخواست گذار کے مطابق وہ محکمہ ایجوکیشن خوشاب میں بطور پی ایس ٹی ٹیچر اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہا تھا تاہم 2016 میں جھوٹے قتل کے مقدمہ میں گرفتار اور عدالت سے سزا ہوا۔8 سال بے گناہ جیل میں رہنے اور عدالتی اخراجات کی وجہ سے ملازم کے گھر والوں کی ساری جمع پونجی قانونی جنگ میں لگ گئی.
تاہم 2024 میں ہائیکورٹ نے قتل کے الزام سے باعزت بری کیا ،جیل سے باہر آنے کے بعد ملازم نے محکمہ میں جوائننگ کے لیے رجوع کیا تو محکمہ نے محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے فوجداری مقدمہ میں ملوث ہونے اور غیر حاضری کا الزام لگا کر جبری ریٹائرمنٹ کی سزا دے دی۔
محکمانہ سزا کو عدالت میں چیلنج کرنے پر عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے ملازم کو دی گئی سزا کالعدم قرار دے دی ۔
ٹربیونل نے مزید قرار دیا کہ جب ملازم فوجداری مقدمہ سے بری ہوتا ہے تو ایسی صورت میں تمام بقایا جات کے ساتھ نوکری پر بحال ہونے کا حقدار ہوتا ہے۔