420890 8377221 updates

سیلاب سے بچاؤ کا پلان برسوں سے عملدرآمد کا منتظر، لاگت میں 500 ارب کا اضافہ

ویب نیوز: ملک میں گزشتہ 8 برسوں سے سیلاب سے بچاؤ کے پلان پر عملدرآمد نہیں ہونے کا انکشاف ہوا ہے، لاگت 500 سو ارب اضافے سے 824 ارب پر پہنچ گئیں، نظرثانی شدہ فلڈ پروٹیکشن پلان منظوری کیلئے مشترکہ مفادات کونسل کو ارسال کر دیا گیاہے۔

نظرثانی شدہ چوتھے فلڈ پروٹیکشن پلان کی تفصیلات کے مطابق نظرثانی شدہ فلڈ پروٹیکشن پلان میں 132ارب روپے کے نئے منصوبے شامل ہیں، مجموعی طور پر پلان میں 746ارب سے زائد کے صوبائی منصوبے جبکہ وفاقی سطح کے 77ارب سے زائد کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
420852 4909689 updates
مشترکہ مفادات کونسل نے مئی 2017 میں فلڈ پروٹیکشن پلان کی منظوری دی تھی،فلڈ پروٹیکشن پلان کا پہلا فیز جون 2023 کو ایکنک سے منظور ہوا تھا، پہلا فیز 194ارب کی لاگت سے 5 سال میں مکمل ہونا تھا.

منصوبہ کے فنڈز کی عدم فراہمی اور صوبوں کی عدم دلچسپی کے باعث پہلا فیز بھی مکمل نہیں ہوسکا، منصوبے میں ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو آئندہ سیلاب سے بچانے کے اقدامات شامل تھے، منصوبے کے تحت فلڈ فورکاسٹنگ اور ارلی وارننگ سسٹم نصب کئے جانے تھے۔

نہروں اور پلوں پر ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب کی جانی تھی، منصوبے میں واٹرشیڈ مینجمنٹ، سیلابی خطرات کی زوننگ بھی شامل تھی، 80 لاکھ ایکڑ زرعی زمین سیلاب سے بچانے کے اقدامات کئے جانے تھے.

اس طرح 22 لاکھ گھروں اور 76 سکولوں کی سیلاب سے حفاظت یقینی بنانی تھی، 223 ٹیوب ویلز اور 64 دیہاتوں کو محفوظ بنانے کے اقدامات بھی پلان کا حصہ ہیں۔331 کلومیٹر کی سڑکوں اور 3825 کسانوں کیلئے حفاظتی اقدمات بھی شامل تھے.

چوتھا فلڈ پروٹیکشن پلان 332 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جاناتھا، منصوبہ 20 فیصد فنڈنگ مقامی اور80 فیصد فارن فنڈنگ سے مکمل ہونا تھا، 20 فیصد مقامی فنڈنگ میں 50 فیصد وفاق اور 50 فیصد صوبوں نے دینا تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں