اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خود کش دھماکے کے نتیجے میں 31 افراد شہید اور 160 سے زائد زخمی ہو گئے۔
ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی کی مسجد و امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں جمعے کی نماز کے دوران دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 31 افراد شہید ہوگئے جبکہ دھماکے کے بعد ہسپتال لائے گئے زخمیوں کی تعداد 169 ہو گئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور کو گیٹ پر روکا گیا تواس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا،پولیس اورسیکیورٹی ادارے کارروائیوں میں مصروف ہیں،پولیس کا کہنا ہے کہ خارجی خودکش کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا۔پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک ہسپتال منتقل کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایت پر وزیرمملکت طلال چوہدری پمز ہسپتال پہنچ گئے۔
ترجمان وزارت صحت کے مطابق دھماکے کے بعد وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی ہدایت پر وفاقی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، امام بارگاہ دھماکا، اسپتالوں میں ادویات، طبی آلات اور دیگر ضروری سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جارہی ہے، ڈاکٹرز نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔
وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ افسوس ناک واقعے میں زخمیوں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، پمز اور پولی کلینک سمیت تمام وفاقی اسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز مکمل فعال ہیں۔
وزیراعظم شہبازشریف نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے،وزیرصحت کوخود نگرانی کرنےکا حکم دیتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے،کہا دھماکے کے ذمہ داران کا تعین کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امام بارگاہ کے اندر خود کش دھماکے کے بعد راولپنڈی کے تمام ہسپتالوں کو ہائی الرٹ کردیا گیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ 25 ایمرجنسی ایمبولینسز اسلام آباد روانہ کردی گئی ہیں جبکہ راولپنڈی ڈسٹرکٹ کے تمام ہسپتال ہائی الرٹ پر ہیں۔ہسپتالوں میں سرجیکل ٹیمز مکمل طور پر تیار ہیں جبکہ بلڈ بینکس اور آپریشن ٹھیٹرز میں زخمیوں کو ہر طرح کی طبی سہولت فراہم کرنے انتظامات مکمل ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کے مطابق کمشنر اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
