مریم مراد
خواجہ سراء وہ طبقہ ہے جو معاشرتی رنگا رنگی کا حصہ ہے لیکن تاریخ کے گرد و غبار میں ان کی شناخت کو کبھی عزت کی مسند پر بٹھایا گیا تو کبھی محرومیوں کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا۔ برصغیر کی تہذیب میں خواجہ سراء محض صنفی شناخت کا استعارہ نہیں تھے بلکہ وہ شاہی درباروں کے معتمد، بادشاہوں کے رازدار اور سماجی امور میں ایک خاص مقام رکھتے تھے۔ مغلیہ دور میں انہیں نہ صرف شاہی محلوں کی حفاظت کا فریضہ سونپا گیا بلکہ وہ بادشاہوں کے مشیر بھی ہوا کرتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جب سلطنت کے ستون کمزور پڑنے لگے تو ان کے مقام میں بھی کمی آتی گئی اور نوآبادیاتی دور میں ان کے لیے مسائل بڑھتے چلے گئے۔
چین کی تاریخ میں خواجہ سراؤں کا دور حکومت ایک منفرد اور اہم باب ہے۔ خواجہ سراء، جنہیں "حرم” کے محافظ کے طور پر جانا جاتا تھا، نے چینی سلطنت میں کئی صدیوں تک اہم سیاسی اور انتظامی کردار ادا کیا۔ انہوں نے نہ صرف شاہی خاندان کی حفاظت کی بلکہ حکومتی معاملات میں بھی گہرا اثر ڈالا۔ خاص طور پر منگ خاندان (1368–1644) کے دور میں خواجہ سراؤں نے مرکزی حکومت میں نمایاں مقام حاصل کیا اور بعض اوقات شہنشاہ پر بھی اثر انداز ہوئے۔ ان کی حکمرانی کامیاب رہی کیونکہ وہ وفاداری، انتظامی صلاحیتوں اور سیاسی چالاکی سے مالا مال تھے۔ تاہم، ان کا یہ اثر و رسوخ بعض اوقات تنازعات کا باعث بھی بنا، جس کی وجہ سے انہیں تاریخ کے مختلف ادوار میں تنقید کا نشانہ بھی بننا پڑا۔
برطانوی راج کے دوران 1871ء میں "کریمنل ٹرائبز ایکٹ” کے تحت خواجہ سراؤں کو ایک "مجرم طبقے” کے طور پر شناخت کیا گیا، جس نے ان کی معاشرتی حیثیت کو مزید دھندلا دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب خواجہ سراؤں کو نہ صرف قانونی طور پر مجرم سمجھا گیا بلکہ معاشرتی رویے بھی سخت ہوتے چلے گئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی یہ طبقہ نظرانداز ہوتا رہا اور ان کے حقوق کی آوازیں ان گنت مسائل کے شور میں دب گئیں۔ تاہم وقت کے دھارے نے ایک موڑ اس وقت لیا جب پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے خواجہ سراؤں کے لیے آواز بلند کی۔
سال 2009ء میں سپریم کورٹ نے خواجہ سراؤں کو شہری حقوق دینے کا تاریخی فیصلہ سنایا، جس میں انہیں شناختی کارڈ کے ذریعے اپنی صنفی شناخت کے اظہار کا حق دیا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب امید کی ایک کرن نے جنم لیا لیکن عملی سطح پر اس فیصلے کو نافذ کرنے میں بہت سی مشکلات درپیش رہیں۔
پاکستان میں خواجہ سراء آج بھی شناخت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اگرچہ 2018ء میں پارلیمنٹ نے "ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ” منظور کیا جس کے تحت خواجہ سراؤں کو اپنی مرضی کی صنفی شناخت اپنانے اور بنیادی حقوق کا تحفظ فراہم کرنے کی ضمانت دی گئی لیکن معاشرتی تعصبات اور امتیازی سلوک اب بھی ان کے راستے میں دیوار بنے ہوئے ہیں۔ اکثر خواجہ سراء اپنے خاندانوں سے بے دخل کر دیے جاتے ہیں اور معاشرتی بے حسی کے باعث انہیں تعلیم، صحت اور ملازمت جیسے بنیادی حقوق سے محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ طبقہ زیادہ تر نچلے طبقے کے پیشوں جیسے بھیک مانگنے، شادیوں پر ناچنے یا پھر جسم فروشی تک محدود رہتا ہے۔ ان کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہیں اور اگر کوئی خواجہ سرا تعلیم حاصل کرنا بھی چاہے تو اسے طنز اور توہین کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہسپتالوں میں انہیں مناسب علاج کی سہولت نہیں ملتی، تعلیمی اداروں میں ان کے ساتھ امتیازی رویہ روا رکھا جاتا ہے، اور دفاتر میں انہیں قبولیت نہیں ملتی۔ یہ وہ مسائل ہیں جنہوں نے خواجہ سراؤں کی زندگی کو ایک مسلسل امتحان بنا دیا ہے۔
تاہم امید کی کچھ کرنیں بھی ہیں۔ کچھ تنظیمیں جیسے "گرینڈر”، فوکس ٹرانسجینڈر”نظامت”، اور "ٹرانس ایکشن پاکستان” خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ یہ تنظیمیں نہ صرف قانونی معاونت فراہم کرتی ہیں بلکہ خواجہ سراؤں کو بااختیار بنانے کے لیے تربیت اور روزگار کے مواقع بھی فراہم کر رہی ہیں۔ میڈیا نے بھی کچھ حد تک ان کے مسائل کو اجاگر کیا ہے اور عوامی شعور بیدار کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
پاکستانی معاشرہ اگرچہ روایات کا امین ہے لیکن یہ وقت کا تقاضا ہے کہ خواجہ سراؤں کو برابر کے شہری سمجھا جائے۔ محض قوانین بنانے سے تبدیلی ممکن نہیں ہوتی جب تک کہ عوامی رویے تبدیل نہ ہوں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی اداروں میں صنفی حساسیت پر مبنی نصاب متعارف کرایا جائے، خواجہ سراؤں کے لیے مخصوص کوٹے مختص کیے جائیں، اور انہیں صحت و تعلیم کے شعبے میں برابری کی بنیاد پر مواقع فراہم کیے جائیں۔
یہ طبقہ بھی اسی سماج کا حصہ ہے جس میں باقی لوگ بستے ہیں، ان کے دل بھی دھڑکتے ہیں، ان کی خواہشیں بھی آسمان کی وسعتوں کو چھونا چاہتی ہیں۔ یہ وہ انسان ہیں جنہوں نے اپنی شناخت کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان کے آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کا اطلاق خواجہ سراؤں پر بھی ہونا چاہیے۔ وقت کا پہیہ گھوم رہا ہے اور معاشرتی تبدیلی کی آہٹ سنائی دے رہی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستانی معاشرہ خواجہ سراؤں کو عزت کے اس مقام پر بٹھانے کے لیے تیار ہے جس کے وہ مستحق ہیں؟
پاکستان میں خواجہ سراؤں کے حقوق کی جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل جنوبی پنجاب میں خواجہ سراء کمیونٹی کے لیے مخصوص تعلیمی اداروں کا قیام ہے، جس میں بہاولپور کا حالیہ ٹرانسجینڈر سکول ایک نمایاں پیش رفت ہے۔اس شاندار اقدام کا سہرا صاحبہ جہاں کے سر جاتا ہے، جو جنوبی پنجاب کی پہلی وکٹم سپورٹ آفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ فوکس ٹرانسجینڈر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن بھی ہیں۔ان کی قیادت میں یہ تنظیم نہ صرف خواجہ سراؤں بلکہ دیگر اقلیتی برادریوں کی آواز اعلیٰ حکام تک پہنچانے کے لیے سرگرم عمل ہے.
یہ سکول بہاولپور کے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کینال کالونی کے ایک حصے میں قائم کیا گیا ہے، جہاں 14 کے قریب خواجہ سراء جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتوں جیسے فوٹوگرافی، آئی ٹی سکلز، اور دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کر رہے ہیں.
یہ اقدام صرف تعلیمی ترقی نہیں بلکہ معاشرتی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ خواجہ سراء، جو صدیوں سے تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم رہے، اب اپنی شناخت کے ساتھ وقار سے جینے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان کے لیے علیحدہ تعلیمی ادارے صرف علم کا دروازہ ہی نہیں بلکہ خودمختاری، باعزت روزگار اور سماجی قبولیت کا راستہ بھی کھول رہے ہیں۔ اگر یہ ماڈل ملک بھر میں اپنایا جائے تو وہ دن دور نہیں جب خواجہ سراء بھی استاد، ڈاکٹر، انجینئر اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں گے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ اس تعلیمی مشن کو مزید وسعت دی جائے، تاکہ یہ روشنی ملک کے ہر کونے تک پہنچے اور خواجہ سرا برادری کو وہ مقام حاصل ہو جس کی وہ صدیوں سے منتظر ہے۔
فری لانس جرنلسٹ
فورٹ عباس