زین العابدین عابد
ملتان پولیس نے شہر کو بھکاریوں سے پاک کرنے کے عزم کے تحت پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف ایک مؤثر کریک ڈاؤن کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کے دوران، ٹرانسجینڈر وکٹم سپورٹ افسران کے ساتھ مشترکہ کارروائی میں 60 بھکاریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد منظم گداگر گینگ اور پیشہ ور بھیکاریوں پر قابو پانا اور حقیقی ضرورت مند افراد کی بحالی کو یقینی بنانا ہے۔
چونکہ بہت سے افراد، خاص طور پر بیشتر خواتین جو دیکھا دیکھی بھیک مانگنے کی عادت اپنا رہی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ چند ایک مالی مشکلات کے باعث گداگری پر مجبور ہوتی ہیں، اس لیے حکام نے ایک ہمدردانہ حکمت عملی اختیار کی ہے۔ خواتین بھکاریوں کو پکڑ کر بحالی سنٹرز میں لے جایا جاتا ہے جہاں مناسب دیکھ بھال، متوازن خوراک اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ باوقار روزگار حاصل کر سکیں اور معاشرے کا مفید حصہ بن سکیں۔
ملتان پولیس نے اہم چوراہوں، بازاروں اور ٹریفک سگنلز پر نگرانی مزید سخت کر دی ہے تاکہ پیشہ ور بھکاری عوام کی ہمدردیوں کا ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ اس مہم کا مقصد نہ صرف عوامی نظم و ضبط بحال کرنا ہے بلکہ منظم گداگری کے پیدا کردہ انحصاری کے سلسلے کو توڑنا بھی ہے۔
سی پی او ملتان کا کہنا ہے کہ یہ کوششیں ملتان کو ایک ایسا شہر بنانے کے لیے جاری ہیں جہاں لوگ خیرات پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے بہتر مستقبل کے لیے کام کریں۔ یہ مہم وسیع تر سماجی بہتری کے وژن کی عکاسی کرتی ہے، جس میں ضرورت مند افراد کو خودمختار اور باوقار زندگی گزارنے کے لیے مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ حکومت اور انتظامیہ کی طرف سے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سڑکوں پر گداگری کی حوصلہ شکنی کریں اور مستحق افراد کو سرکاری بحالی مراکز کی طرف رہنمائی کریں۔ ان کی طلاع نزدیکی پولیس اسٹیشن کو دیں۔
پنجاب اسمبلی نے حال ہی میں "پنجاب بیگری (ترمیمی) بل 2025” کو اکثریتی ووٹ سے منظور کیا ہے، جس کے تحت پیشہ ور بھکاریوں اور منظم گداگری نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔منظور ہونے والے بل کے اہم نکات میں، زبردستی گداگری کرانے کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے، کسی کو بھکاری بنانے پر تین سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانہ، جرمانہ ادا نہ کرنے پر مزید چھ ماہ قید ہوگی۔اس طرح اگر کوئی شخص متعدد افراد کو بھکاری بنانے میں ملوث پایا گیا تو اسے تین سے پانچ سال قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
بچوں کو گداگری پر مجبور کرنے پر پانچ سے سات سال قید اور سات لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا، عدم ادائیگی کی صورت میں ایک سال اضافی قید ہوگی اور کسی بالغ یا بچے کو جان بوجھ کر معذور بنا کر گداگری پر مجبور کرنے والے کو سات سے دس سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے، جرمانہ ادا نہ کرنے پر مزید دو سال کی سزا ہو گی۔
ویگرینسی آرڈیننس میں کی گئی ترمیم گورنر پنجاب کی منظوری کے بعد قانون کی حیثیت اختیار کر چکی ہے، جس کا مقصد پیشہ ور بھکاریوں کے خاتمے اور ان کے پیچھے موجود مجرمانہ نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔
جس پر پنجاب حکومت اور ملتان پولیس نے پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے تاکہ عوام کو ان کے شر سے محفوظ رکھا جا سکے اور ایک ترقی پسند معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔ تاہم، یہ مہم صرف حکومتی اداروں تک محدود نہیں بلکہ اس کی کامیابی میں عام شہریوں کا کردار بھی کلیدی ہے۔
اب ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ پیشہ ور بھکاریوں کو قریبی پولیس اسٹیشن یا ہیلپ لائن 15 پر رپورٹ کرے تاکہ حکام فوری قانونی کارروائی کر سکیں۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بھکاریوں کو خیرات دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ اسے مزید بڑھا دیتا ہے۔ پیشہ ور بھکاری نہ صرف خیرات پر گزارہ کرتے ہیں بلکہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور معصوم بچوں کو بھی اس استحصالی نظام میں دھکیل دیتے ہیں۔ ان میں سے اکثر منظم گداگری نیٹ ورکس کے تحت کام کرتے ہیں جو معذور افراد، خواتین اور بچوں کو زبردستی گداگری پر مجبور کرتے ہیں۔
ملتان پولیس نے شہر کو پیشہ ور بھکاریوں سے نجات دلانے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔ خصوصی ٹیمیں بازاروں، ٹریفک سگنلز، مذہبی مقامات اور تجارتی مراکز پر مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔ خواتین بھکاریوں کے خلاف کارروائی کے لیے "پنک اسکواڈ” کو خصوصی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جس میں، خواتین بھکاریوں کی شناخت اور انہیں عوامی مقامات سے ہٹانا، انہیں بحالی مراکز میں منتقل کرنا، جہاں انہیں پیشہ ورانہ تربیت دی جائے، حکومتی اور فلاحی اداروں کے ذریعے ان کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی شامل ہے.
یہ مہم صرف گداگری کے خاتمے تک محدود نہیں، بلکہ ان افراد کے لیے ایک باوقار مستقبل کی راہ ہموار کر رہی ہے جو اس مسئلے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ حقیقی ضرورت مندوں کو بحالی مراکز اور فلاحی پروگراموں کے ذریعے مدد فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ ایک عزت دار زندگی گزار سکیں۔ ہر شہری کا اخلاقی اور سماجی فرض ہے کہ وہ اس تحریک کا حصہ بنے۔ اگر آپ اپنے علاقے میں پیشہ ور بھکاریوں کو دیکھیں، تو فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دیں۔
یاد رکھیں، خیرات دینا بظاہر نیکی کا عمل لگ سکتا ہے، لیکن درحقیقت یہ گداگری کے کاروبار کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ اصل مدد یہ ہے کہ ایسے اقدامات کی حمایت کی جائے جو لوگوں کو خودمختاری اور روزگار کے مواقع فراہم کریں۔ آئیے مل کر ایک ایسا معاشرہ بنائیں جہاں ہر شخص خود اپنے قدموں پر کھڑا ہو اور گداگری ماضی کا قصہ بن جائے۔